Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

بات ہے کہ مسلمان عرب میں جاتے ہیں تو وہاں کے نظام سے خوب ایڈجسٹ کرکے رہتے ہیں۔ مگر ہندستان میں وہ ایڈ جسٹ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان جس طرح باہر کے ملکوں میں وہاں کے حالات سے مطابقت کرکے رہتے ہیں، اسی طرح اگر وہ ہندستان میں رہنے لگیں توان کے سارے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں۔ ۱۲ فروری ۱۹۹۰ انڈین ایکسپریس (۱۰ فروری ۱۹۹۰) میں کشمیر کے بارے میں ایک نہایت منصفانہ اور آزادانہ مضمون چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے ایک ہندو صحافی اروند کلا (Arvind Kala) ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وادی کشمیر، جہاں ۹۵ فیصد مسلمان آباد ہیں، ان کے ساتھ آزادی کے بعد سے برابر ناانصافی ہوتی رہی ہے۔ خاص طور پر الیکشن میں بہت زیادہ دھاندلی کی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے اندر مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ اور وہ آرا دکشمیر، با الحاق پاکستان جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔ اس کا جواب گولی نہیں ہے بلکہ ان کو مطمئن کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں مضمون نگار نے لکھا ہے کہ عقلمندی یہ ہے کہ جب کشمیری یہ کہیں کہ ہم انڈیا سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو اس پر بہت زیادہ ردعمل ظاہر نہ کیا جائے : It is wise not to over-react when Kashmiris say they want to leave the Indian Union. یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جو لفظ بولتا ہے وہ اس کے اصل جذبات سے زیادہ ہوتا ہے۔ وہ شدت اظہار کا مظہر ہوتا ہے نہ کہ بیان واقعہ کا۔ اگر اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو مخالف فریق سے معاملہ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ ۱۳ فروری ۱۹۹۰ آج رات کو خواب میں ایک چھپا ہوا اخباری مضمون پڑھا۔ اس میں ایک ٹائپر“ کا قصہ تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم کو یہ کامیابی کیسے ملی۔ اس نے مختصر جواب دیا کہ میں نے پڑھا، میں نے ٹاپ کیا۔ اس کے بعد میں نے خواب ہی میں الرسالہ کے صفحہ اول کے لئے ایک مضمون بنایا جو اس طرح تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page