آغازِ کلام
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
طالب علم : میں نے پڑھا میں نے محنت کی میں نے ٹاپ کیا ۴ فروری ۱۹۹۰ کچھ مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو۔ مگر جب مسلمانوں کو اسکول اور کالج میں داخلہ ہی نہ ملے تو پڑھیں گے کیوں کر۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد عذر ہے۔ میرے بھائی عبدالمحیط خاں اور میرے بھتیجے شکیل احمد خاں کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ اور دونوں نے وہاں انجینئرنگ کی ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی۔ آپ اگر واقعی پڑھنا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔ پھر میں نے اپنی مثال دی۔ عربی مدرسہ میں عربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے چاہا کہ انگریزی زبان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کروں۔ یہ غالباً ۴۷ ۱۹ء کی بات ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) میں عربی مدارس کے طلبہ کے لئے داخلہ کی ایک صورت پہلے سے موجود ہے۔ اس کے مطابق میں نے جامعہ ملیہ میں داخلہ کا ارادہ کیا تھا۔ میرے چچازاد بھائی مولانا اقبال احمد سہیل کا ڈاکٹر ذاکر حسین سے بہت قریبی تعلق تھا۔ میں سہیل صاحب کا ایک سفارشی خط لے کر اعظم گڑھ سے دہلی آیا اور اوکھلا پہنچ کر ڈاکٹر ذاکر حسین سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی طنصاری اور خوش اخلاقی مشہور ہے۔ مگر کسی معلوم سبب کے تحت انھوں نے میرے ساتھ نہایت خشک رویہ اختیار کیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انھوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کے لئے بھی نہیں کہا۔ میں سہیل صاحب کا خط دے کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے خط پڑھا اور اس کے بعد مزید کچھ پوچھے بغیر سادہ طور پر داخلہ لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھوں گا۔ سالہا سال کی محنت کے بعد خدا کے فضل سے میں نے اتنی انگریزی سیکھ لی کہ ہر طرح کی انگریزی کتاب پڑھ سکتا ہوں۔ جامعہ کے انگریزی کے استاد انوار علی خاں سوز مرحوم الرسالہ کے متاری تھے۔ وہ کہا کرتے کہ وحید الدین خاں انگریزی عبارتوں کا جو ترجمہ کرتے ہیں اس سے اچھا ترجمہ ہم لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader