Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کے نام روانہ کیا۔ سید جمال الدین افغانی کے اس مضمون یا جواب کا مکمل انگریزی ترجمہ العروة الوثقیٰ کے مذکورہ نمبر میں شائع ہوا ہے۔ میں نے اس کو پڑھا تو معلوم ہو کہ جمال الدین افغانی کا مذکورہ جواب حقیقت میں اسلامی دعوت نہ تھا بلکہ وہ اسی قسم کی ایک دفاعی تحریر تھی جیسا کہ ان کی دوسری تحریریں ہیں۔ اس جواب میں انھوں نے لکھا تھا کہ مسٹر ریناں کی بحث دو بنیادی موضوع سے تعلق رکھتی ہے۔ ممتاز فلسفی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلم مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے سائنسی ترقی کا مخالف ہے۔ اور یہ کہ عرب لوگ اپنی طبیعت کے اعتبار سے مابعد الطبیعیاتی علوم سے دلچسپی رکھتے تھے اور نہ فلسفہ سے: Mr Renan's talk covered two principle points. The eminent philosopher applied himself to proving that the Muslim religion was by its very essence opposed to the development of science, and that the Arab people, by their nature, do not like either metaphysical sciences or philosophy. (p. 28) جمال الدین افغانی نے اپنے جوابی مضمون میں انھیں دونوں ”الزامات“ کا دفاع کیا ہے۔ اس کا حقیقی اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ ۳۱ جنوری ۱۹۸۹ء ڈاکٹر عبد العلیم عویس ریاض کی جامعۃ الامام میں علوم اجتماعیہ کے پروفیسر ہیں۔ وہ میری تحریروں کے بہت قدرداں ہیں اور سعودی عرب کے اپنے حلقوں سے قریبی روابط رکھتے ہیں۔ اپریل ۱۹۸۶ کے دوسرے ہفتے میں وہ دہلی آئے اور ہمارے مرکز میں ٹھہرے۔ ان کے اس قیام دہلی کا ایک واقعہ الرسالہ (اپریل ۱۹۸۷ء صفحہ ۸) میں شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبد العلیم عویس کی اس آمد کا مقصد یہ تھا کہ الرسالہ کے عربی ایڈیشن کے معاملات طے کریں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو انھوں نے راضی کر لیا کہ وہ ترجمہ اور ایڈٹ کرنے کا کام کریں گے۔ انھوں نے پیش کش کی کہ اس کا سارا خرچہ مکمل طور پر سعودی عرب سے پورا کیا جائے گا اور تمام عالم عرب میں اس کو پھیلایا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page