آغازِ کلام
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں منکرین کو یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم کو اس کتاب کے کتاب الہیٰ ہونے میں شک ہے تو اس کے جیسی ایک سورہ بن کر لاؤ (فأتوا بسورة من مثله)، اس پر ایک شخص نے کہا کہ میں اس چیلنج کا جواب دیتا ہوں۔ وہ دیکھو قرآن میں ہے کہ والسماء ذات البروج۔ اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ والنساء ذات الفروج۔ یہ چیلنج کا جواب نہیں بلکہ مسخرہ پن ہے۔ اس جملہ کی ساخت ہی بتا رہی ہے کہ کہنے والے نے بطور تمسخر یہ بات کہی تھی نہ کہ سنجیدہ جواب کے طور پر۔ ۱۶ فروری ۱۹۹۰ء ۷ فروری ۱۹۹۰ء کو کراچی میں فساد ہوا۔ اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۸ فروری ۱۹۹۰ء) کے صفحہ اول پر اس کی تفصیلی خبر تھی۔ اس کا عنوان تھا : کراچی میں آگ اور خون کا کھیل۔ بھاگلپور سے مولانا محمد اکرم الدینی قاسمی تشریف لائے۔ انھوں نے بھاگلپور کے فساد (۲ اکتوبر ۱۹۹۰ء) کی مفصل رپورٹ تیار کی ہے جو ۱۰۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ کا نام ہے: آگ اور خون کی ہولی میں نے کہا کہ بھاگلپور کے فساد کو آپ لوگ ہندو کے خانہ میں ڈالتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ کراچی کے فساد کو آپ کس کے خانہ میں ڈالیں گے۔ مسلمان اگر صرف اس ایک بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو وہ یقیناً اس حل کو پالیں گے جس کو استعمال کر کے اس ملک سے فسادات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ ۱۷ فروری ۱۹۹۰ء حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال ایک نہیں بلکہ بہت سے ہوں گے۔ مثلاً ایک روایت میں ہے کہ دجال ۳۰ ہوں گے (مثلا ثلاثون دجالون)، ایک روایت میں ہے کہ دجال جب بولے گا تو اس کی آواز مشرق سے مغرب تک سنائی دے گی۔ ان روایتوں کی بنا پر میرا گمان یہ ہے کہ دجالہ دراصل دور پریس کے لیڈر ہیں۔ موجودہ زمانہ کے لیڈر متفقہ طور پر تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اور یہ لیڈر یقینی طور پر ان چیزوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader