آغازِ کلام
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
شوق بھی لامناہی طور پر بڑھ گیا ہے۔ یہی حال مسلم لیڈروں کا بھی ہے، خواہ وہ بے ریش لیڈر ہوں یا با ریش لیڈر۔ موجودہ زمانہ کے تمام لیڈز شہرت کے لیڈر ہیں۔ یعنی وہ مشہور ہوگئے اس لئے وہ لیڈر بن گئے۔ لیڈری کے اس سستے ذریعہ نے موجودہ زمانہ کے لیڈر پیدا کئے ہیں، اور یہی وہ لیڈر ہیں جنہوں نے موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل پیدا کئے ہیں۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۰ء بمبئی کے دو صاحب ملنے کے لئے آئے۔ دونوں کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ آجکل عمرہ کو اسمگلنگ والوں نے اپنے کاروبار کا ذریعہ بنالیا ہے۔ وہ لوگوں کو عمرہ کے ویزا پر مکہ مدینہ بھیجتے ہیں۔ وہ وہاں سے ان کے لئے اسمگلنگ کا سامان لے کر آتے ہیں۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ میں آپ کو اس سے بھی زیادہ سخت بات بتاتا ہوں ۔ پچھلے سال میں حج کے لئے گیا۔ وہاں میں نے ایک شخص کو دیکھا جو پاکٹ ماری میں پکڑا گیا تھا۔ میں نے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک منتظم کا روبار ہے۔ کچھ لوگ فقیروں اور پاکٹ ماروں کو حج کے زمانہ میں مکہ مدینہ بھیجتے ہیں۔ وہ وہاں جاکر بھیک مانگتے ہیں اور پاکٹ ماری کرتے ہیں۔ آجکل یہ ایک زبردست بزنس بنا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ بمبئی میں بال ٹھاکرے اور سلمان رشدی کے خلاف بڑی بڑی مہمیں چلائی جاتی ہیں۔ پھر اس قسم کے مجرمین کے خلاف کوئی مہم کیوں نہیں چلائی جاتی ۔ انھوں نے کہا کہ علانیہ مہم چلانا تو درکنار، لوگ اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ سعودی حکام کو خط لکھ کر اس کی خبر کردیں۔ کیوں کہ وہ ڈرتے ہیں کہ جو لوگ اس قسم کا کاروبار کر رہے ہیں، وہ ان کو جان سے مار ڈالیں گے۔ توہمات، قدیم زمانہ میں علم کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ یہ توہمات طفیلی پودوں (Parasites)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader