Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

کی طرح علم کی ترقی کو روکے ہوئے تھے۔ اسلام نے توہمات کو ختم کیا۔ اس کے بعد علم کا سفر ترقی کی طرف شروع ہوگیا۔ خلافت راشدہ اور بنو امیہ کے زمانہ تک نقلی علوم کو ترقی دی گئی۔ بنو عباس کے زمانہ میں بغداد میں بیت الحکمت قائم ہوا، اور سیکولر علوم کی ترقی کا دور شروع ہوگیا۔ ترقی کا یہی سلسلہ ہے جو اسپین ہوتا ہوا یورپ پہنچا اور یورپ کی جدید علمی ترقی کا سبب بنا۔ اسلام نے علم کو توہمات سے آزاد کیا، مگر وہ اس کو اخلاقی دائرہ کا پابند بنائے ہوئے تھا۔ یورپ نے علم کو اخلاقی پابندی سے آزاد کر دیا۔ یہاں سے علم میں ایک نئی خرابی پیدا ہوگئی۔ جدید علم توہمات سے آزاد تھا۔ مگر یورپ نے آزادی کی حد کو نہیں سمجھا۔ اس نے علم کو اخلاقی حدود سے بھی آزاد کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں جدید علم میں دوبارہ نئی نئی برائیاں پیدا ہوگئیں۔ ۲۰ فروری ۱۹۹۰ مسٹر نانی اے پالکھی والا ہندوستان کے مشہور قانون داں ہیں۔ ان کا ایک مضمون ٹائمس آف انڈیا (۲۰ فروری ۱۹۹۰) میں چھپا ہے۔ یہ ہندوستان کے انکم ٹیکس ایکٹ کے بارے میں ہے۔ مسٹر پالکھی والا نے لکھا ہے کہ ہمارے ملک کی وزارت قانون تبدیلی کے خبط (change mania) کی شکار ہے۔ اس کو گویا تبدیلی کا جنون ہے۔ چنانچہ پہلے ۳۰ سال میں ہندوستان کے انکم ٹیکس ایکٹ میں تین ہزار ترمیمات (Amendments) کی جا چکی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی بنا پر انکم ٹیکس قانون میں بے حد پیچیدگیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مالی مقدمات کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یونائٹڈ کنگڈم میں ۲۹ ملین انکم ٹیکس دینے والے ہیں۔ مگر ان کے یہاں ہائی کورٹ میں آنے والے مقدمات کی تعداد سال میں صرف ۳۰ ہوتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انڈیا میں صرف سات ملین ٹیکس ادا کرنے والے ہیں۔ مگر یہاں ہائی کورٹ میں جانے والے مقدمات کی تعداد سالانہ چھ ہزار سے زیادہ ہوتی ہے: The flood of litigation is heavier than ever before. ہندوستان میں آزادی (۱۹۴۷) کے بعد جو برائیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک تبدیلی کا خبط تھا۔ ہر شعبہ میں مسلسل تبدیلی کی جانے لگی۔ حتیٰ کہ تبدیلی کو ترقی کے ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ اس خبط

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page