آغازِ کلام
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
نے آخر کار ملک کو برباد کر کے رکھ دیا۔ میسور کے سلطان ٹیپو انگریزوں سے لڑاتے ہوئے ۱۷۹۹ء میں ہلاک ہو گئے، ان کی سلطنت ختم ہو گئی۔ اقبال کے خیال کے مطابق یہ مسلم دنیا کا نا قابل تلافی حادثہ تھا۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا کہ ٹیپو مسلمانوں کی ترکش کا آخری تیر تھا۔ ترکش مارا از تفنگ آخریں میرے نزدیک یہ ایک لغو بات ہے۔ کوئی بھی شخص مسلمانوں (یا اسلام) کی ترکش کا آخری تیر نہیں ۔ اسلام ایک کامل مذہب ہے۔ اس کی ترکش کے تیر کبھی ختم ہونے والے نہیں، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ اس قسم کی تمام باتیں دعوتی ذہن نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسلام کی اصل طاقت دعوت ہے۔ اگر مسلمان اس کو جان لیں تو وہ کبھی کسی کے بارہ میں " ترکش مارا از تفنگ آخریں" کا لفظ نہ بولیں ۔ کیوں کہ دعوت ایک ایسی طاقت ہے جو کبھی اور کسی حال میں ختم ہونے والی نہیں۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۰ء قومی آواز (۲۲ فروری ۱۹۹۰ء) کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ رام کی منفر د منہ بھومی (اجودھیا) میں رام کی مندر تعمیر کرنے کے نام پر شو ہندو پریشد اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے ایک ارب ۴۸ کروڑ روپیہ جمع کیا ہے۔ رام مندر کے نام پر جب اتنی بڑی رقم جمع ہو چکی ہے تو اب اس کا دو ہی انجام ہو سکتا ہے۔ یا تو اجودھیا میں مجونہ رام مندر تعمیر ہو ۔ اور اگر بالفرض رام مندر تعمیر نہ ہوا تو اس رقم کے بٹوارہ کے لئے خود ہندو کون میں آپس کی جنگ شروع ہو جائے گی ۔ دونوں میں سے ہر صورت ملک کے لئے تباہ کن ہے ۔ رام مندر کی تعمیر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دوسرا پاکستان ہے۔ یہ ہند و مسلم جھگڑے کو مزید پچاس سال کے لئے زندہ کر دینا ہے۔ اور اگر دوسری صورت ہو تو یہ ہند و سوسائٹی میں کرپشن میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا جو پہلے ہی بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کے جھگڑوں کو چھوڑ کر قومی اشوز کو مرکز تو جہ بنایا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader