Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

کے خوف سے روئے ۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہی دوسرے مسلمانوں کا حال بھی ہے ۔ موجودہ مسلمان اس اسلام سے آشنا نہیں جو قر آنی ہے، اَعْيُنُهُمُ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْع کی صفت رکھتا ہو۔ مزید یہ کہ یہ محرومی صرف محرومی تک نہ رہی ۔ اس نے لوگوں کے اندر ایک گمراہی بھی پیدا کر دی ۔ لوگ کیفیت والے دین کو نہیں پا سکتے تھے ، اس لئے انہوں نے کمیت والے دین کو ایجاد کر لیا ۔ روزانہ ایک یا کئی قرآن ختم کرنا ۔ اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کسی کلمہ کا ورد کرنا ۔ نوافل کی کثرت ، وغیرہ ۔ یہ سب اسی نوعیت کی چیزیں ہیں ۔ کیفیت والا دین جب لوگوں کو حاصل نہ ہوا تو کمیت والے دین میں اضافہ کر کے انہوں نے اپنے آپ کو مطمئن کر لیا کہ انھوں نے دین کی بلندی کو پالیا ہے ۔ حالاں کہ یہ سب گمراہی اور بدعت ہے نہ کہ ہدایت اور دین داری۔ ۲۲ فروری ۱۹۹۰ ڈاکٹر شمس الآفاق (فتری آف ہیلتھ ، نئی دہلی) ملاقات کے لئے آئے ۔ وہ رسالہ سے پوری طرح متفق ہیں ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ " آپ کی انگریزیڈاؤٹ فل معلوم ہوتی ہے"۔ یعنی یہ کہ میں خدانخواستہ ہندوؤں یا حکمرا نوں کا ایجنٹ ہوں ۔ جو کچھ کہتا ہوں مفاد کے تحت کہتا ہوں ۔ میں نے کہا کہ ستمبر ۱۹۸۹ کے آخری ہفتہ میں لیبیا میں انٹر نیشنل کانفرنس تھی ۔ مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں آئے۔ میں بھی شریک ہوا۔ اخبار نور دہلی کے ایڈیٹر ایم ۔ افضل صاحب بھی اس میں شریک تھے۔ ہم ساتھ ہو لئے ۔ ہم لوگ ٹراپلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page