Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا اپنے اس استغنا کی وجہ سے میں نے پانچ سو ڈلر کھودیا۔ فروری ۱۹۹۰ کے دوسرے ہفتہ میں نئی دہلی میں مولانا ابوالکلام آزاد پر انٹرنیشنل سیمنار ہوا۔ اس میں مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام میں میرا نام بھی چھاپ دیا گیا۔ اس سیمنار میں نہ صرف باہر کے بہت سے لوگوں سے ربط قائم کرنے کا موقع تھا، بلکہ وزیر اعظم ہند (وی پی سنگھ) سے ملتا، ان کے ساتھ ڈنر کھانا اور دوسرے فوائد تھے۔ میرے پاس سیمنار کی تمام چیزیں میرے گھر پر بھیج دی گئیں۔ گھر میں وہاں سرے سے شریک ہی نہیں ہوا۔ کیا مفاد پرست لوگ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آفاق صاحب نے کہا کہ یہ سب باتیں آپ کو رسالہ میں شائع کرنی چاہئیں تاکہ لوگوں کے شبہات ختم ہوں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ الرسالہ کی سطروں سے مجھ کو نہ سمجھ سکے وہ اس کی خبروں سے بھی مجھ کو نہیں سمجھ سکتے۔ ۲۵ فروری ۱۹۹۰ رفیق احمد صدیقی ایم آئی مول، دہلی، انجینئر ہیں۔ آجکل وہ ظہران کی پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ظہران میں جماعت اسلامی کے بہت سے لوگ ہیں۔ وہ اپنا ہفتہ وار اجتماع کرتے تھے۔ اس کو گورنمنٹ نے روک دیا۔ مگر آجکل انھوں نے دوبارہ اجازت لے لی ہے۔ اب وہ برابر اپنے اجتماعات کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ اجازت ان کو ضرور کچھ یقین دہانی کر کے ملی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ انھوں نے ذمہ داروں کو یقین دلایا کہ ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔ اس کے بعد انھیں اجازت مل گئی۔ میں نے کہا کہ یہ سراسر منافقانہ بات ہے۔ کیوں کہ سیاست اور حکومت تو جماعت اسلامی کے عقیدہ میں شامل ہے۔ اسلامی حکومت قائم کرنا ہی ان کا اصل مقصد ہے۔ اسی لئے وہ پاکستان کے ہر حکمراں سے ٹکراؤ کرتے رہے ہیں۔ مگر سعودی عرب میں انھوں نے یہ کہہ دیا کہ سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے لوگ اگر تقریر اور جلوس اور بیانات کا طریقہ اختیار کرتے تو اجازت ملنا تو درکنار، انھیں سعودی عرب سے نکال دیا جاتا۔ اسی طرح اگر وہ اپنے سیاسی نظریہ کا اعلان کرتے تب بھی ہرگز انھیں اجازت نہ ملتی۔ میں نے کہا کہ یہ مسلمان بھی کیسے عجیب ہیں۔ سعودی عرب میں وہ منافقانہ رابطہ رچاکر ایڈجسٹمنٹ کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہندوستان جیسے ملک میں وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page