آغازِ کلام
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت کی سطح پر بھی ایڈ جسٹمنٹ کرنے پر راضی نہیں۔ میری عمر ۶۶ سال ہو گئی۔ اگر مجھے بتانا ہو کہ میری پوری زندگی کے مطالعہ اور تجربہ کا آخری حاصل کیا ہے، تو میں کہوں گا کہ_ اللہ تعالی نے ایک مسٹر نٹنگ (Mr. Nothing) کو پیدا کیا اور اس کے اوپر (Thing) کا پردہ ڈال دیا۔ انسان کے پاس بظاہر دماغ ہے، علم ہے، طاقت ہے، اسباب و وسائل ہیں۔ مگر یہ سب کا سب ظاہری پردہ ہے۔ اس پردہ کے اندر داخل ہو کر دیکھنے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کا ایک علیحدہ وجود ہے۔ اس کا یہ علیحدہ وجود دنیا سے لے کر آخرت تک باقی رہے گا۔ مگر انسان کا سب کچھ سراسر اللہ کی ذات پر منحصر ہے۔ دنیا میں بھی اگر وہ کچھ پا تا ہے تو وہ اللہ کے دینے سے پاتا ہے۔ اور آخرت میں بھی وہ جو کچھ پائے گا اللہ کے دینے سے پائے گا۔ انسان کے پاس ارادہ ہے مگر اس کے اندر تنفیذ کی طاقت نہیں۔ انسان کے پاس فکر ہے مگر حالات کے اوپر اس کا کنٹرول نہیں۔ اس کو چاہنے کا اختیار ہے۔ مگر اس کو کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ ۲۷ فروری ۱۹۹۰ء ایک صاحب سعودی عرب میں انجینئر ہیں۔ گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے مواقع نہیں۔ کیوں کہ مسلمانوں کو یہاں جان بوجھ کر سپرس (suppress) کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ آٹھ سال سے عرب میں ہیں۔ کیا وہاں آپ نے اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات دیکھی۔ انھوں نے کہا کہ بہت سی باتیں ہیں۔ مثلاً وہاں ایک امریکی انجینئر کے لئے تنخواہ بھی زیادہ ہے اور عزت بھی زیادہ۔ مگر ہماری تنخواہ بھی کم ہے اور عزت بھی کم۔ میں نے کہا کہ پھر کیا آپ نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی سوال ہی نہیں۔ وہاں سسٹم کے خلاف کوئی شخص بولے تو فوراً اس کو واپس روانہ کر دیں گے۔ کوئی زیادہ گڑ بڑ کرے تو اس کو جیل میں بند کر دیں گے۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سپرس کئے جانے کا مسئلہ عرب میں بھی ہے۔ جوں کہ وہاں آپ مفاہمت کر کے رہتے ہیں اس لئے وہاں آپ سپرس نہیں کئے جاتے۔ پھر میں نے کہا کہ ہندوستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کے مسلمان یہاں کے حالات سے ہم آہنگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader