Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

کرکے رہنے کے لئے تیار نہیں۔ یہاں وہ احتجاج اور ٹکراؤ کر کے رہنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ وہ صورت پیش آرہی ہے جس کو آپ جیسے لوگ سپریشن (suppression) کا نام دیتے ہیں۔ اگر مسلمان یہاں موافقت کے ساتھ رہیں جس طرح وہ باہر کے ملکوں میں رہتے ہیں تو یہاں بھی ان کو وہی مواقع ملنے لگیں گے جو ان کو دوسرے ملکوں میں مل رہے ہیں۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۰ سیوان (بہار) کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اندر ایمان کی چنگاری تو موجود ہے، صرف اس کو ہوا دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد وہ بھڑک کر شعلہ بن جائے گی۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں پر یہ مثال صادق نہیں آتی۔ صحیح بات یہ ہے کہ موجودہ مسلمان قوم مسلم پر ہیں۔ اب ان کو دین مسلم پر لانے کی ضرورت ہے۔ ایک ہے تلفظ کلمہ، اور ایک ہے معرفت کلمہ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو ایمان ہے وہ تلفظ کلمہ کی سطح پر ہے۔ وہ معرفت کلمہ کی سطح پر نہیں ہے اور کلمہ کی معرفت کا نام ایمان ہے نہ کہ کلمہ کے الفاظ کو دہرانے کا۔ ایک آریہ سماجی ہندو اور ایک مسلمان مولوی میں مناظرہ ہوا۔ مولوی نے کہا کہ تم جہنم میں جاؤ گے ۔ آریہ سماجی نے کہا کہ نہیں، میں جنت میں جاؤں گا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ کیا اس حدیث کو مانتے ہو کہ من قال لا الہ الا الله دخل الجنة مولوی صاحب نے کہا ہاں۔ آریہ سماجی نے بلند آواز سے کہا کہ پھر سنو، میں کہتا ہوں لا الہ الا الله ۔ اب مولوی صاحب لاجواب ہوگئے ۔ اس کا سبب یہی تھا کہ مولوی صاحب نے تلفظ کلمہ کو ایمان سمجھ لیا۔ یکم مارچ ۱۹۹۰ ایک صاحب نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے بڑے بڑے مصلح پیدا ہوئے۔ بہت بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ مگر سب بے فائدہ ثابت ہوئیں۔ میں نے کہا کہ ان تحریکوں اور ان شخصیتوں نے نتیجہ سے آغاز کرنا چاہا، اور اس دنیا میں نتیجہ سے آغاز ممکن نہیں۔ صحابہ کرام نے مکہ اور مدینہ میں ایک عمل کیا۔ اس کے بعد عالمی انقلاب کی صورت میں اس کا نتیجہ برآمد ہوا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین کو صرف نتیجہ کی خبر تھی ، انھیں عمل کی خبر نہیں تھی۔ چنانچہ وہ نتیجہ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page