آغازِ کلام
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
جذباتی انداز میں مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے رہے ۔ مثلاً اقبال کا یہ شعر : کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تمام مصلحین دورِ نتیجہ کے بارہ میں اس قسم کی رومانی باتیں کہہ کر مسلمانوں کو جوش دلاتے رہے کسی نے دور عمل کی حقیقتیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہیں کیں۔ ایسی حالت میں وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔ ۲ مارچ ۱۹۹۰ء ہمارے دفتر سے متصل پارک آجکل بہت ہرا بھرا ہو رہا ہے۔ رنگ برنگ کے پھولوں کی کیاریاں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ کئی دن کی بدلی اور کوہر کے بعد آج پوری دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ صبح ۱۱ بجے میں نے چھت پر کھڑے ہو کر پارک کی طرف دیکھا تو وہ نہایت خوش نما معلوم ہوا۔ میں ابھی دیکھ رہا تھا کہ معمولی کپڑے میں ایک غریب عورت پارک کے اندر داخل ہوئی۔ وہ اس کے ایک کنارے بیٹھ گئی۔ اس کے ساتھ کچھ کھانے کی چیز تھی ۔ وہ کنارے ایک جگہ بیٹھ کر کھانے لگی۔ میں نے عورت کو دیکھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ عورت اپنی ذات کی بنیاد پر اس قسم کے پارک کی مالک نہیں بن سکتی۔ تاہم وقت کا نظام اس کو اجازت دے رہا ہے کہ وہ اس کے کنارے آکر بیٹھ سکے اور اس کی پر بہار فضا میں شریک ہو۔ دل سے دعا نکلی کہ خدایا، میں اپنے عمل کے اعتبار سے جنت کا مستحق نہیں ہوں۔ تو چاہے تو اس غریب عورت کی طرح مجھے یہ اجازت دیدے کہ میں جنت کے ایک گوشہ میں قیام کر سکوں۔ ۳ مارچ ۱۹۹۰ء اقبال احمد صاحب (۵۹ سال)، مراد آباد کے رہنے والے ہیں۔ ۱۳ اگست ۱۹۸۰ء کو مراد آباد میں جو فساد ہوا تھا، اس کے بارہ میں انھوں نے تفصیلات بتائیں۔ یہ عید کا دن تھا۔ مسلمان عید گاہ میں نماز کے بعد خطبہ سننے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں عید گاہ سے متصل ایک نالہ ہے۔ اس کی طرف سے ایک خنزیر عید گاہ میں گھس آیا۔ لوگوں نے اس کو بھگایا تو وہ ڈرتے ہوئے ایک صاحب کے پاس سے گزرا جو چادر بچھائے ہوئے اس پر بیٹھے تھے۔ خنزیر رجیب اس چادر کے پاس سے دوڑتا ہوا گزرا تو ان کی چادر پر اس کی کیچڑ چھینٹیں آگئیں۔ پاس ہی پولیس کا آدمی کھڑا ہوا تھا۔ انھوں نے درشت انداز میں پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader