آغازِ کلام
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا کہ تم یہاں کھڑے ہوئے کیا دیکھ رہے ہو۔ دیکھتے نہیں کہ خنزیر نے میری چادر گندی کر دی ۔ ان کے غصہ پر پولیس والا بھی غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا : ہم یہاں کیا سور کی رکھوالی کے لئے کھڑے ہیں۔ اب دونوں طرف سے تیزی بڑھی ۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے ایک پولیس کو پکڑ کر اتنا مارا کہ وہ مر گیا۔ اس کے بعد پولیس والے آپے سے باہر ہو گئے اور انھوں نے ہندوؤں کو ساتھ لے کر مراد آباد کو بھون ڈالا ۔ اقبال صاحب نے کہا کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی کے ایگو (انا )، کو پٹچ (مس) نہ کرے۔ ورنہ اس کا ایگو سپرا ایگو بن جائے گا اور اس کے بعد اگلا مرحلہ بریک ڈاؤن ہے۔ ۴ مارچ ۱۹۹۰ مولانا انیس لقمان ندوی کے ساتھ فجر کی نماز کالی مسجد (نظام الدین) میں پڑھی۔ تھانے سے واپس آتے ہوئے میں نے کہا کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں اسلام کا ظاہری ڈھانچہ تو باقی رہا ۔ مگر اسلام کی اصل ایسپرٹ گم ہو گئی۔ میں نے مثال دیتے ہوئے چند باتوں کا ذکر کیا ــ مثلاً کہ ایسپرٹ، حدیبیہ ایسپرٹ افعل ولا حرج ایسپرٹ، حسن ایسپرٹ۔ مکہ ایسپرٹ سے مراد ہے یک طرفہ صبر کرتے ہوئے دعوت دینا۔ حدیبیہ ایسپرٹ سے مراد ہے مشکلات کو چھوڑ کر مواقع کو استعمال (Avail) کرنا۔ افعل ولا حرج ایسپرٹ یہ ہے کہ جزئیاتی مسائل کے اختلاف کو توسع کے خانہ میں ڈالتے ہوئے اصل دین پر توجہ صرف کرنا۔ حسن ایسپرٹ یہ ہے کہ باہمی اختلاف اگر دو طرفہ بنیاد پر حل نہ ہو رہا ہو تو یک طرفہ دست برداری کے ذریعہ اختلاف کو ختم کر دینا۔ ۵ مارچ ۱۹۹۰ بھائی حبیب محمد صاحب (حیدر آباد) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنا کام بڑھایا، اسی کے ساتھ ذہنی الجھنیں بھی بڑھ گئیں۔ صنعت کے بارہ میں گورنمنٹ کے قوانین سخت پریشانی میں ڈالنے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ مسئلہ اور مقصد کو ایک دوسرے سے الگ کر لیجئے، مسئلہ پر اسی وقت تک توجہ دیجئے جب تک مقصد متاثر نہ ہو رہا ہو۔ جب مقصد متاثر ہوتا ہوا نظر آئے تو مسئلہ کو حالات کے حوالہ کر کے مقصد کو اختیار کر لیجئے ۔ ذہنی پریشانی ہمیشہ ضروری اور غیر ضروری یا اہم اور غیر اہم کے درمیان فرق نہ کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader