Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم میں اس پیشکش کو منظور نہ کر سکا۔ کیوں کہ اس میں میرے لئے ذاتی شہرت کا موقع تو بہت تھا۔ مگر میرا اصل مقصد اس سے حاصل نہیں ہورہا تھا۔ اور اس کی وجہ ان کی یہ شرط تھی کہ اس عربی الرسالہ میں ۵۰ فیصد مضامین میرے ہوں گے اور ۵۰ فیصد مضامین دوسروں کے ہونگے۔ یہ میرے نزدیک رکون (ہود ۱۱۳) کے ہم معنی تھا، اس لئے میں اس کو قبول نہ کر سکا۔ ۵۰ فیصد کی اس تقسیم کے بعد الرسالہ کا نقشہ کیا ہوتا ، اس کی ایک مثال مسلمانوں کے دوسرے پرچے ہیں جن میں ہمیشہ دعوت کے ساتھ غیر دعوت بھی موجود رہتی ہے۔ مثلاً ریاض کے ہفت روزہ الدعوۃ (جمادی الآخرہ ۱۴۰۹ھ ، ۱۶ جنوری ۱۹۸۹) میں دکتر عبد الحلیم عویس کا ایک مضمون ہے جس میں دعوت کو المفتاح العظیم بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسلمان داعی بن کر دوسری قوموں کے اوپر فتح حاصل کریں (صفحہ ۵۰)، دوسری طرف اسی پر چہ میں ۶ صفحات کا ایک اور مضمون ہے جس کا عنوان ہے : الاقليات المسلمة تواجه خطراً (یعنی مسلم اقلیتوں کو نگلنے کا خطرہ کا سامنا) یہ خطرہ کس کی طرف سے ہے۔ یہ انہیں غیر مسلم قوموں کی طرف سے ہے جن کے اوپر دعوت کا کام کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ لوگ جن کو مدعو کہا جاتا ہے۔ گویا ایک ہی پرچہ میں ایک طرف مسلمانوں کو داعی بننے پر ابھارا جا رہا ہے اور اسی پرچہ میں دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ تمہارا مدعو خطرہ ہے۔ یہ بات داعیانہ نفسیات کے سراسر خلاف ہے۔ جو لوگ اس طرح کی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ یکم فروری ۱۹۸۹ ہندوستان کی آزادی (۱۹۴۷) کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے 'پانچ سالہ منصوبوں کے تحت ملک کی ترقی کا پروگرام بنایا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہماری اقتصادی پالیسی کا نشانہ یہ ہے کہ ہر ایک کو خوش حالی نصیب ہو۔ Our economic policy aims at plenty for all. نہرو کے بعد ان کی صاحبزادی اندرا گاندھی وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھیں تو انھوں نے بھی غریبی ہٹاؤ کے نعرہ کے تحت اس منصوبہ کو مزید عزم کے ساتھ آگے بڑھانے کا اظہار کیا۔ جلد ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page