Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

کلیم اللہ صاحب ایم سی ایس سری نگر، شروع سے الرسالہ کے قاری ہیں۔ ان سے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گفت گو ہو رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آجکل جس طرح کشمیر کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وہ بظاہر لوگوں کو حیرت انگیز لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ اس کو اچانک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ تو ایک لاوا ہے جو پچھلے ۴۰ سال سے پک رہا تھا، اب وہ اپنی حد پر پہنچ کر پھٹ گیا۔ اس کے بعد الرسالہ کے مشن پر گفت گو ہوتی رہی۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ کو ایک پائینرنگ درک سمجھتا ہوں۔ بظاہر الرسالہ صبر اور اعراض سکھار ہا ہے۔ مگر یہ بھی گویا ایک تعمیری لاوا ہے جو خاموشی سے اندر اندر پک رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ تعمیری لاوا پھٹ پڑے گا۔ اس وقت تمام دوسرے نظریات اس کے سیلاب میں بہہ جائیں گے۔ ۷ مارچ ۱۹۹۰ ندوہ کے پندرہ روزہ اخبار تعمیرِ حیات (لکھنؤ) میں ایک مستقل صفحہ کھولا گیا ہے۔ اس میں مولانابوالحسن علی ندوی کے نام ”مشاہیر“ کے خطوط چھاپے جارہے ہیں۔ ایک صاحب نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعمیرِ حیات میں مشاہیر کے خطوط چھپ رہے ہیں، آپ کے الرسالہ میں اس قسم کے خطوط شائع نہیں ہوتے۔ میں نے کہا کہ ”تعمیر حیات“ مشاہیر کے خطوط چھاپتا ہے، ہم خالقِ مشاہیر کے خطوط چھاپ رہے ہیں۔ ۸ مارچ ۱۹۹۰ ابوداؤد (کتاب الزکاۃ) میں ایک حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں : لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ (ایک مالدار شخص کو زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔ الا یہ کہ وہ اللہ کے راستہ میں ہو۔) یہ استثناء نہایت با معنی ہے۔ عام لوگوں کی ضرورت صرف کھانا، کپڑا، اور بقدرِ ضرورت مکان ہے۔ مگر مجاہدین فی سبیل اللہ (داعی حق کی ضروریات صرف انھیں چیزوں تک محدود نہیں ہوتیں۔ مثلاً ایک داعی حق، جو علم کی راہ سے دعوت کا کام کر رہا ہو، اس کے پاس لاکھوں روپیہ کی کتابیں ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے قیمتی وسائل ہو سکتے ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود یہ ممکن ہے کہ اس کو مدد کی ضرورت ہو۔ عام انسان باعتبارِ ضرورت محتاج ہوتے ہیں اور داعی باعتبارِ وسائل۔ اور وسائل کی کوئی حد نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page