Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

کو درست نہیں کر سکتی: No change of circumstances can repair a defect of character. عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کہیں بگاڑ دیکھتے ہیں تو اس کا سبب نظام سسٹم کو قرار دیکر مروجہ سیاسی نظام کو توڑنے کی دھواں دھار مہم شروع کر دیتے ہیں۔ مگر سیاسی نظام ٹوٹنے کے بعد بھی بگاڑ درست نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بجائے ہمیشہ افراد کے کردار میں خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے بگاڑ کی درستگی افراد کی خرابی کو دور کرنے سے آئے گی نہ کہ حکمرانی کا نظام توڑنے سے۔ ۱۲ مارچ ۱۹۹۰ رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمتی کے جنرل سکریٹری داؤدیال کھنہ ، وشو ہندو پریشد جنرل سکریٹری اشوک سنگھل، بج رنگ دل کے لیڈر راجندر سنگھ ودنے کیتار نے رامپور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا : "عدالت کا کوئی فیصلہ اس معاملہ میں ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ رام جنم بھومی کا تعلق ہمارے جذبات سے ہے۔ کچھ شرپسند ہندوؤں نے ۳۱۳ مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کی ایک لسٹ جاری کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش کی ہے۔ مگر ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ رام جنم بھومی، بنارس کا مندر اور متھرا میں کرشن جنم بھومی، یہ تین ہمیں دیدیا جائے، پھر نہ تو ہم کسی دوسری عبادت گاہ کا مطالبہ کریں گے اور نہ ہی وشو ہندو پریشد ، بج رنگ دل اور رام جنم بھومی کمیٹی رہے گی ۔ تینوں مسجدوں اور عید گاہ کو حکومت ہندوؤں کے حوالے کر کے ایک قانون بنادے جس کو ہم ماننے کے لئے تیار ہیں۔ قومی آواز، نئی دہلی، ۱۱ مارچ ۱۹۹۰ مسلمانوں میں کوئی سنجیدہ لیڈر نہیں۔ ورنہ وہ ہندو ذمہ داروں کی میٹنگ کر کے کہنے کے دو شرط کے ساتھ ہمیں یہ تجویز منظور ہے۔ ایک یہ کہ انہیں تین مسجدوں پر فل اسٹاپ ہوگا، اس کے بعد کسی اور مسجد کا چیپٹر نہیں کھولا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ ان تین مسجدوں کے معاملہ کو تاریخ داں پروفیسروں کے ایک بورڈ کے حوالے کر دیا جائے اور وہ جو فیصلہ دے اس کو دونوں فریق تسلیم کر لیں۔ مجرد کلیم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کے معاملات کا فیصلہ تاریخی ریکارڈ کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ محض دعوے کی بنیاد پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page