Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں صحابہ کرام کے بارہ میں ہے کہ رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔ "وہ اللہ سے راضی ہوگئے"۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کرنے پر راضی ہوگئے، خواہ اس کی راہ میں جو بھی قربانی دینی پڑے۔ صحابہ کے زمانہ میں اللہ کا خاص منصوبہ ہستہ (تشرک جارح) کو ختم کرنا تھا۔ صحابہ کرام نے اس منصوبہ میں اپنے آپ کو پوری طرح دیدیا۔ اس کے لئے انھوں نے ہر قسم کی قربانیاں دیں۔ اور سب سے زیادہ مشکل قربانی جو انھوں نے دی وہ نفسیاتی قربانی تھی۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دورِ آخر میں اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا کلمہ ہر گھر اور ہر خیمہ میں داخل ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں وسائلِ اعلام (پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا) کی ترقی اس بات کا اشارہ ہے کہ اس دوسرے منصوبہ الہی کی تکمیل کا وقت اب آگیا ہے۔ آج دوبارہ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اس خدائی منصوبہ میں شامل کریں اور اس کے لئے ہر قسم قربانی دیں، یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچ جائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ "ورضوا عنہ" کے مصداق ٹھہریں گے۔ اور پھر وہ "رضی اللہ عنہم" کے انعام کے مستحق قرار دئیے جائیں گے۔ ۱۴ مارچ ۱۹۹۰ دین کی بہت سی باتیں مجھ کو اپنے ذاتی تجربہ سے سمجھ میں آئی ہیں۔ آجکل میں مضامین اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میری تشخیص کے مطابق ، امت اس وقت فکری تزکیہ کے مرحلہ میں ہے۔ ابھی وہ عملی اقدام کے مرحلہ میں نہیں۔ میری مسلسل کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صحیح دینی فکر پیدا کروں۔ اس وقت یہی میرے نزدیک اصل کام ہے۔ یہ کام ابھی تکمیل کے درجہ تک نہیں پہنچاہے۔ اگر جلد ہی میری وفات ہو جائے تو میں چاہتا ہوں کہ تعمیر نہ کر کا یہ کام میرے بعد بھی عرصہ تک جاری رہے۔ اس مقصد کے لئے میں مضامین جمع کر رہا ہوں جو میرے بعد الرسالہ میں چھپتے رہیں۔ اس طرح کئی سال تک لوگ الرسالہ ، اس کی ایجنسی وغیرہ کے موجودہ کام میں مشغول رہیں گے۔ اس کام کے دوران سمجھ میں آیا کہ لا تكتبوا عنی غیر القرآن کی شاید ایک مصلحت یہ بھی تھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page