Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حدیث کی کتابت سے روک دیا۔ اس طرح آپ نے امت کو اپنے بعد ایک عظیم الشان قسم کی علمی اور تعمیری مشغولیت دیدی۔ اگر تمام حدیثیں قرآن کی طرح آپ کی زندگی میں مدون ہوجاتیں تو آپ کے بعد لوگوں کے پاس تعمیری سرگرمیوں کا کوئی بڑا میدان نہ ہوتا۔ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، آپ کے بعد کئی سو سال تک مسلمانوں کے درمیان حدیث کی جمع و تدوین اور اس سے متعلق علوم کے لئے زبردست سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس سے لوگوں کے اندر علمی ذوق بنا، انہیں تعمیری سرگرمیوں میں مشغولیت کا ایک وسیع میدان مل گیا۔ اس کام کے بے شمار براہ راست اور بالواسطہ فائدے ہوئے۔ اس طرح جو علمی فضا بنی اس کے نتیجہ میں دوسرے علوم پیدا ہوئے۔ انسانی تاریخ توہماتی دور سے نکل کر حقیقی علمی دور میں داخل ہوئی۔ ۱۵ مارچ ۱۹۹۰ منظور احمد ابن محمد اسماعیل، ۲۲ سالہ کشمیری نوجوان ہیں۔ وہ سرینگر کے محلہ خواجہ بازار میں رہتے ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ" مجاہدین" میں سے ہیں جو کہ آجکل کشمیر میں گولی اور بم کی سیاست چلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سب کوئی کام نہیں۔ اصل کام پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ کشمیر کے مسلمان تعلیم حاصل کریں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی یو سی کر کے چھوڑ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں عمر میں آپ کے باپ کے برابر ہوں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ موجودہ سرگرمیوں کو چھوڑ دیں اور تعلیم حاصل کریں۔ میں نے مزید کہا کہ اگر آپ کے گھر کے لوگ آپ کا تعلیمی خرچ نہ دیں تو میں انشاء اللہ آپ کا پورا تعلیمی خرچ دوں گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ تعلیم کی تکمیل تک آپ ہر دوسری مشغولیت کو بالکل چھوڑ دیں۔ مگر وہ اتنے جوش میں تھے کہ میری پیشکش کو قبول نہ کر سکے۔ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ پرانی فائل دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک کاغذ ملا۔ اس کاغذ پر ۲۸ جنوری ۱۹۷۹ کی تاریخ درج ہے اور اس میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ ”خدا کا شکر ہے کہ میں ایک ایسے ملک میں ہوں جہاں پٹانون کی حکومت ہے۔ اگر یہاں پیلاٹس رومی (Pilate) کی حکومت ہوتی تو یہ ظالم مجھ کو سولی پر چڑھانے سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوتے۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page