Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

سرینگر میں سورہ کے مقام پر شیخ محمد عبداللہ شیر کشمیر کا مکان ہے۔ کشمیر کے لوگوں نے اس میں آگ لگادی۔ اس کا بڑا حصہ جل گیا۔ سرینگر میں شیخ محمد عبداللہ کی قبر پر مستقل پہرہ رہتا ہے۔ کیوں کہ اندیشہ ہے کہ کشمیر کے انتہا پسند ان کی قبر توڑ کر ان کی لاشیں نکالنے کی کوشش کریں گے تاکہ اس کی بے حرمتی کرسکیں۔ شیخ عبداللہ (۱۹۸۲ - ۱۹۰۵) کی پوری زندگی میں کشمیری ان کو پوجتے رہے۔ اب یہی کشمیری ان کو غدار کہتے ہیں۔ ان کے جو اعلٰی جذبات پہلے شیخ عبداللہ کے لئے تھے، وہ جذبات اب پاکستان کے حق میں ہوگئے ہیں۔ آجکل ہر کشمیری بیتاب ہے کہ وہ ہندوستان سے کٹ کر پاکستان سے مل جائے۔ کچھ کشمیریوں سے ملاقات ہوئی ۔ میں نے کہا کہ جس طرح آپ لوگوں نے شیخ عبداللہ کو سمجھنے میں غلطی کی، اسی طرح آپ لوگ اب پاکستان کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کی ہندوستان سے علیحدگی کی تحریک کامیاب ہوگئی تو آئندہ آپ لوگ ٹھیک اسی طرح پاکستان سے بیزار ہو جائیں گے جس طرح آج شیخ عبداللہ سے بیزار ہیں۔ مگر اس وقت آپ کے لئے کچھ بھی کرنے کا موقع نہ ہوگا۔ ۱۸ مارچ ۱۹۹۰ء مسز انیس جنگ ایک الٹرا ماڈرن خاتون ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہر ہفتہ نظام الدین میں ایک بزرگ کے مزار رپتے شاہ کے یہاں حاضری دیتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ جیسی ایک خاتون ایسا کیوںکر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ خواہ کتناہی نہ زیادہ ماڈرن بن جائیں، مگر ہم کو اندرونی اعتماد حاصل نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ جدت پسندی یقین و اعتماد کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ ہم نے قدیم اعتماد کو کھو دیا ہے، اور اس کی جگہ اب تک ہم نئی بنیاد حاصل نہیں کر سکے ہیں: Modernity is facing the problem of conviction. We have lost it, and we have not replaced it as yet. حقیقت یہ ہے کہ "ماڈرن" لوگ سب سے زیادہ سچائی کے آگے جھکنے کے لئے تیار ہوتے ہیں، بشرطیکہ ان کی قابل فہم زبان میں سچائی کو ان کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ یہ دور جدید کی ایک اہم دعوتی حقیقت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page