Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے مسلم لیڈروں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے مسئلے کا حل پہلے یہ بتایا کہ ملک تقسیم کر دیا جائے۔ ۱۹۴۷ میں تقسیم ہو گئی۔ مگر خود مسلم لیڈروں کی نادانی سے کشمیر کا مسئلہ غیر حل شدہ باقی رہ گیا۔ اس کے لئے پاکستان نے ایک سے زیادہ بار حملہ کیا۔ مگر وہ اس کو حاصل نہ کر سکے۔ اب وہ کشمیر کے نوجوانوں کو تربیت دے کر اور انھیں امداد دے کر کشمیر کے اندر تخریب کاری کروا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ یہ مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنانا ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر کچھ نہ کرتے، وہ صرف خاموش رہتے تو اب تک فطرت (نیچر) مسئلہ کو حل کر چکی ہوتی۔ مگر ان کی احمقانہ مداخلت صرف مسئلہ میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۰ بے شمار لوگ کسی تبلیغ کے بغیر اپنے آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام عین فطرت انسانی کے مطابق ہے۔ ہر آدمی میں پیشگی طور پر ہر قسم کے اچھائی کے ماڈل موجود ہیں۔ آدمی جب ایک لذیذ پھل یا ایک خوبصورت پھول کو پسند کرتا ہے تو وہ اسی لئے اس کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کے اپنے فطری ماڈل کے مطابق تھا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دین مطلوب (دین حق) کا ماڈل رکھ دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب دین حق کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ فوراً اس کو قبول کر لیتا ہے۔ کیوں کہ وہ اس کے اپنے ماڈل کے عین مطابق تھا۔ ۲۱ مارچ ۱۹۹۰ طرابلس میں محمد سلیمان القائد کے مکان پر ٹیپ بج رہا تھا۔ مدینہ کی مسجد نبوی کے امام کی قرأت سنائی دے رہی تھی۔ اچانک مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گذرا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں قیامت کے میدان میں ہوں، اور وہاں انسان کے بولے ہوئے الفاظ کو اس کے سامنے دہرایا جا رہا ہے۔ یہ اعادہ اتنا کامل اور مکمل ہے کہ کوئی شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ ٹیپ کو سن کر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جس طرح دنیا میں ایک انسان کی آواز دہرائی جا رہی ہے، اسی طرح آخرت میں اس کی محفوظ آواز دہرائی جائے گی تو یہ ایک استنباط ہوگا۔ مگر میرا مذکورہ واقعہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page