Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

استنباط نہیں تھا بلکہ وہ ایک تجربہ تھا۔ اس طرح کے تجربے مجھے کئی بار ہوئے ہیں۔ طرابلس میں ایک عرب نوجوان نے اپنا خواب بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں ان کے پاس ہوں اور ان سے کہہ رہا ہوں کہ میرے پاس عرب لباس موجود نہیں۔ اس پر عرب نوجوان نے کہا کہ میرے پاس دو عربی لباس ہیں۔ ان میں سے ایک لباس میں اپنے پاس رکھتا ہوں اور ایک آپ کو دیدیتا ہوں۔ آپ اس کو استعمال کریں۔ اس خواب کی تعبیر بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ عرب دنیا میں ہمارا مشن بڑے پیمانے پر پھیلنے والا ہے۔ انشاء اللہ العزیز ۔ ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء ۲۳ مارچ کو پاکستان میں قومی دن سمجھا جاتا ہے اور اس کو یوم پاکستان“ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ ۲۳ مارچ کو اس سال خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جائے کیوں کہ قرارداد پاکستان پر اب پچاس سال ( ۱۹۴۰ - ۱۹۹۰ ) پورے ہو گئے ہیں۔ اس کے جواب میں نواز شریف (چیف منسٹر پنجاب نے اعلان کیا کہ پنجاب میں یوم پاکستان ۲۰ مارچ کو منایا جائے گا۔ (نوائے وقت ۴۲ مارچ ۱۹۹۰ء) تاریخی اعتبار سے "یوم پاکستان " ۲۳ مارچ کو آتا ہے۔ مگر نواز شریف (اسلامی لیڈر) اور بے نظیر بھٹو (سیکولر لیڈر) کے درمیان اختلافات یہاں تک بڑھے کہ انھوں نے تاریخ کو بھی اپنا تابع بنا لیا۔ جو پاکستان اسلامی اتحاد کے نام پر بنایا گیا تھا، اس کا حال یہ ہے کہ اب تاریخ کے مسئلہ حقائق کے بارے میں بھی وہاں کے لیڈروں میں اتفاق رائے نہیں۔ اس قسم کے سطحی لوگ اگر اسلامی نظام قائم کر دیں تو وہ ایک ایسا معجزہ ہوگا جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔ ۲۴ مارچ ۱۹۹۰ء ۱۸ - ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ء کو میں طرابلس (لیبیا) میں تھا۔ وہاں کے نوجوان طبقہ میں الرسالہ کا مشن بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سیکڑوں کی تعداد میں تعلیم یافتہ عرب نوجوان اس سے متاثر ہیں۔ وہ لوگ دیوانہ وار میرے اجتماعات میں آتے تھے۔ میری تقریر سنتے تھے اور اس کو ٹیپ کی صورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page