آغازِ کلام
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
میں محفوظ کرتے تھے۔ 1967ء میں پہلی بار طرابلس گیا تھا۔ اس وقت وہاں مصر کے ڈاکٹر عبد الصبور شاہین سے ملاقات ہوئی۔ میری عربی زبان انھیں غیر اہم معلوم ہوئی۔ چنانچہ محمد سلیمان النقائد سے بات کرتے ہوئے انھوں نے میرے بارے میں کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ وحید الدین خاں کچھ ہیں۔ مگر وہ تو کچھ نہیں۔ میں نے ان کو بالکل کمزور پایا۔ حتیٰ کہ ایسا لگا کہ وہ بول بھی نہیں سکتے۔ ایسا آدمی کیا کر سکتا ہے (کنت اتوقع انہ شیٰ ولكن وجدته ضعيفا حتى انه لا يكاد يبين ۔ ماذ ا يستطيع ان يفعل مثله) اب پندرہ سال بعد اسی طرابلس کے تعلیم یافتہ طبقہ میں الرسالہ کا مشن سب سے طاقت ور مشن بن رہا ہے۔ میرے قیام کے دوران عرب نوجوان میری باتوں کو سننے کے لئے اس قدر بے تاب رہتے تھے کہ انھوں بتایا کہ آجکل ہم لوگ سونا، کھانا، ہر چیز بھول گئے ہیں۔ آپ سے ملنے اور آپ کی بات سننے کے سوا ہمیں کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کی ایک بھیڑ روزانہ میرے پاس موجود رہتی تھی۔ ۲۵ مارچ ۱۹۹۰ء محمد سلیمان النقائد نے ایک تعلیم یافتہ عرب کے بارہ میں بتایا کہ انھوں نے سید ابو الاعلیٰ مودودی کی کتابیں پڑھی تھیں اور ان سے بہت متاثر تھے۔ اس کے بعد محمد سلیمان النقائد نے ان کو میری عربی کتابیں اور مفامیں کے عربی ترجمے پڑھائے۔ اس مطالعہ کے بعد ان کا سابقہ جوش ختم ہوگیا۔ تاہم انھوں نے اعتراف نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ دین کو سمجھنے کے لئے میں عجییوں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ (انی لا استطيع ان اعتمــد على الاعاجم فى فهم الدين)۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کا نظریہ ان کے ذوق کے مطابق تھا۔ اس لئے انھیں یاد نہیں آیا کہ وہ عجمی ہیں۔ میری بات ان کے ذوق کے خلاف تھی اور اس کو وہ دلیل سے رد نہیں کر سکتے تھے تو انھوں نے کہہ دیا کہ وہ عجمی ہیں۔ اور دین کے معاملہ میں میں عجمیوں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ امریکی میگزین ٹائم انٹرنیشنل کا شمارہ ۲۶ مارچ ۱۹۹۰ء پڑھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ ۴۴ پر ایک اشتہار نظر سے گزرا۔ یہ ایک امریکی بنک (Jyske Bank) کا اشتہار تھا۔ اس کا عنوان تھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader