آغازِ کلام
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کی سرمایہ کاری پر زیادہ بڑی واپسی: Higher return of your investment. میں نے سوچا کہ بینکوں کے اس قسم کے اشتہارات پر یقین کرکے دوسروں آدمی اپنا سرمایہ بینکوں میں رکھتے ہیں تاکہ ان کی اصل انھیں مزید اضافے کے ساتھ واپس مل سکے۔ اسی قسم کا زیادہ اہم اور زیادہ با معنی اعلان خدا کی طرف سے کیا گیا ہے کہ تم اپنا اثاثہ دین کی راہ میں لگاؤ اور آخرت میں اس کو بہت زیادہ اضافے کے ساتھ تمہاری طرف لوٹا دوں گا۔ مگر کوئی نہیں جو اس اعلان پر یقین کرے اور اپنا اثاثہ خدا کے سپرد کر دے۔ ۲۷ مارچ ۱۹۹۰ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں مسٹر راجیش کوچہر (Rajesh Kochhar) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے ــ رام کا اجودھیا کیا افغانستان میں تھا؟ Was Rama's Ayodhya actually in Afghanistan? مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اجودھیا میں محکمہ آثار قدیمہ نے بڑے پیمانہ پر کھدائی کی ہے۔ اس کھدائی سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی کہ رام اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب رام کا تاریخی تعلق اجودھیا سے ثابت نہ ہو تو رام جنم بھومی کا عقیدہ بھی افسانہ بن جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ ہندوؤں کی طرف سے اس قسم کے مضامین کثرت سے چھپتے رہتے ہیں۔ وہ مسلم اخبارات میں بھی نقل ہوتے رہتے ہیں۔ مگر فروری ۱۹۸۰ میں جب میں نے یہ تجویز پیش کی کہ تاریخ کے پروفیسروں کا بورڈ بطور ثالث مقرر کیا جائے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے، تو مسلم قائدین اس تجویز کو قبول نہ کر سکے۔ مسلمانوں کے لیڈر اس راز کو نہیں جانتے کہ مجرد دعوے سے اجودھیا کے مسئلہ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ہمیں ہندوؤں کو کسی متفقہ بنیاد پر لانا پڑے گا اور وہ بلاشبہ ناشتی ہے۔ مگر مسلم لیڈر اتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ ان سے کسی بھی معقول تجویز کی تائید کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ۱۴ مارچ ۱۹۹۰ کو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے طرابلس (لیبیا) گیا تھا۔ ۲۴ مارچ کی شام کو وہاں سے واپسی ہوئی۔ سفر سے واپسی کے بعد ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader