Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

ادارہ کے تحت پروفیسر جی مورے من لال نے طویل ریسرچ کے بعد ایک کتاب (غربت میں کمی ، ہندوستان کا تجربہ) شائع کی ہے۔ اس کتاب میں مثالوں اور اعداد و شمار کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ ملک میں اقتصادی عمل کی جو رفتار ہے، اس کے مطابق موجودہ صدی کے ختم ہونے تک دنیا بھر کے افلاس زدہ عوام میں سے ۵۰ فیصد ہندوستان میں ہوں گے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ چھٹے پانچ سالہ پلان میں ۲۵۰۷ کروڑ روپے کی رقم غریبی ختم کرنے کے پروگرامن پر خرچ کرنے کے لئے رکھی گئی تھی۔ مگر اس رفتم میں چھ روپیہ میں سے پانچ روپیہ راستہ ہی میں دوسرے لوگوں نے خورد برد کر لیا، وہ غریبوں تک نہیں پہنچا۔ یہی آزادی کے بعد سے اب تک ملک کی تمام اقتصادی سرگرمیوں کا حال رہا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا انتہائی آسان ہے، مگر خوبصورت الفاظ کو خوبصورت واقعہ بنانا انتہائی مشکل۔ ۲ فروری ۱۹۸۹ء جیمز فری مین کلارک (James Freeman Clarke) نے کہا کہ ایک سیاست داں اگلے الیکشن کے بارہ میں سوچتا ہے ، ایک مدبر اگلی نسل کے بارہ میں سوچتا ہے: A politician thinks of the next election, a statesman of the next generation. یہ مقولہ سچے لیڈر اور جھوٹے لیڈر کا فرق بہت اچھی طرح واضح کر رہا ہے۔ جھوٹے لیڈر کے سامنے اپنی ذاتی لیڈری ہوتی ہے، اس لئے وہ قوم کو فوری نعروں میں الجھا دیتا ہے۔ تاکہ فوری تائید سے ذاتی کامیابی حاصل کر سکے۔ مگر جو سچا لیڈر ہے، اس کو قوم کے مستقل مفاد کا درد ہوتا ہے۔ اس لئے وہ ہمیشہ دور رس پرو گرام کی بات سوچتا ہے، خواہ اس میں اسے ذاتی مقبولیت حاصل نہ ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page