آغازِ کلام
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ قذافی کے آدمی ہیں۔ قذافی سے آپ کے خصوصی تعلقات ہیں اور اس سے آپ مالی فائدے حاصل کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹی بات ہے۔ میں نے آج تک قذافی سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لی ہے۔ حتی کہ آج تک میں نے کبھی قذافی سے نجی ملاقات بھی نہیں کی جس کے مواقع میرے لئے پوری طرح موجود تھے۔ میں صرف کانفرنس کے لئے جاتا ہوں اور کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آجاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ۱۹ مارچ کو طرابلس کے فندق المھاری کے وسیع ہال میں کانفرنس ہو رہی تھی۔ دنیا بھر کے تقریبا ڈھائی سو آدمی وہاں جمع تھے۔ معمر قذافی وہاں آئے تو تمام لوگ کرسیوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے ۔ تقریر کے بعد جب وہ جانے لگے تو دوبارہ تمام لوگ کھڑے ہو گئے ۔ میں ایک شخص تھا جو اپنی کرسی پر بیٹھا رہا۔ میں نہ آنے کے وقت کھڑا ہوا اور نہ جانے کے وقت ۔ آپ کو اگر شبہ ہو تو میں آپ کو اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص کا پتہ دیتا ہوں اس کو خط لکھ کر آپ اس کی بابت پوچھ سکتے ہیں: Phiroz Ahmad Khan, P.O. Box 20566 Gaborone, Botswana. (Tel. 374824) اس سے پہلے جون ۱۹۸۷ء میں میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے لیبیا گیا تھا۔ کانفرنس کے ممبران جن کی تعداد ۴۰ تھی ، خصوصی طیارہ کے ذریعہ بنغازمی لے جائے گئے تاکہ وہاں معمر قذافی کے خیمہ میں ان سے ملاقات کرسکیں ۔ ہم سب لوگ خیمہ کے اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں معمر قذافی وہاں آئے ۔ ان کے آتے ہی تمام لوگ کھڑے ہوگئے ۔ میں تنہا اپنی نشست پر بیٹھا رہا ۔ یہ واقعہ ڈاکٹر حیات اسماعیل صاحب نے ٹیلیویژن پر دیکھا ۔ وہ بنگلور کے رہنے والے ہیں اور طرابلس میں بطور انجینئر کام کر رہے ہیں۔ آپ چاہیں تو ان سے اس واقعہ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ طرابلس میں عرب نوجوانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ قرآن کی بات کو اپنے لفظوں میں ڈھال سکیں ۔ جب آپ لفظ بدل دیں اسی وقت آپ معنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader