Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

تک پہنچتے ہیں (اذا بدلت اللفظ فدركت المعنى) اس کی ایک مثال قرآن کی وہ آیت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم فرشتوں کے ذریعہ اپنا پیغام بھیجتے تب بھی ان کو انسان کے روپ میں بھیجتے، اور دوبارہ معاملہ کو اسی طرح مشتبہ کر دیتے جس طرح اب وہ مشتبہ ہو رہے ہیں (وللبسنا عليهم ما يلبسون) اس آیت میں جس چیز کو سنت الپاس کہا گیا ہے، وہ تقریبا وہی چیز ہے جس کو نظریہ تعلیم میں اکتشافی طریقہ (Discovery method) کہا جاتا ہے۔ ایک تعلیمی طریقہ یہ ہے کہ طالب علم کو پوری بات نہ بتائی جائے بلکہ کچھ بتایا جائے اور کچھ چھوڑ دیا جائے، اور طالب علم سے کہا جائے کہ تم خود اپنی کوشش سے اس کو معلوم کرو۔ اس کی ایک سادہ مثال جغرافی نقشہ ہے۔ یعنی نقشہ کو اس طرح چھاپا جائے کہ اس میں لکیروں کے ذریعہ حدود ظاہر کئے گئے ہوں گرم ملکوں اور شہروں کے نام نہ لکھے گئے ہوں۔ پھر یہ سادہ نقشہ طالب علم کو دے کر کہا جائے کہ اس میں ملکوں کے نام لکھو۔ یہی طریقہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور معرفت کارکھا ہے۔ اللہ کی طرف سے بہت کچھ بتانے کے باوجود کچھ چیزوں کو مشتبہ رکھا جاتا ہے تاکہ آدمی محنت کرکے اس کو دریافت کرے۔ بتائی ہوئی بات کو آدمی بہت زیادہ پکڑ نہیں پاتا۔ مگر جب وہ خود اپنے غوروفکر کرکے ذریعہ ایک چیز دریافت کرکے تو وہ چیز آخری حد تک اس کے وجو دیں سما جاتی ہے۔ ۳۰ مارچ ۱۹۹۰ء کسی قوم کو محرومی اور حق تلفی کے احساس پر اٹھانا اس کو ابدی بربادی کے گڑھے میں ڈالنا ہے۔ کیوں کہ ایسی قوم ہمیشہ محرومی کے احساس میں مبتلا رہے گی وہ کبھی ترقی نہ کر سکے گی۔ پاکستان کی تحریک احساس محرومی پر اٹھائی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد یہی احساس محرومی بنگالیوں کے اندر پنجابیوں کے مقابلہ میں جاگ اٹھا اور پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اب خود پاکستان میں یہی احساس محرومی مہاجروں اور سندھیوں کو آپس میں لڑائے ہوئے ہے۔ اسی احساس محرومی کو لیکر کشمیر کے لوگ نام نہاد جہاد کر رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں ہمیشہ ایک آگے اور دوسرا پیچھے ہو جاتا ہے۔ یہ فرق کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ اس لئے پچھڑے ہوئے طبقات میں احساس محنت کو جگانا چاہئے نہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page