آغازِ کلام
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
احساسِ حق تلخی کو۔ یعنی ان پچھڑے ہوئے لوگوں کو یہ کہہ کر نہیں ابھارنا چاہئے کہ فلاں نے تمہارا اثاثہ چھین لیا ہے، بلکہ انھیں یہ بتانا چاہئے کہ زندگی ایک دوڑ ہے۔ تم وقتی طور پر پیچھے ہوگئے ہو۔ اب زیادہ محنت کرو تاکہ تم دوبارہ آگے بڑھ سکو۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۰ آج فجر کی نماز کے بعد کالی مسجد (نظام الدین) میں ایک صاحب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ بھائیو، قرآن کی تلاوت کرو۔ قرآن وہ کتاب ہے کہ اس کے ایک حرف پر دس دس نیکی ہے۔ تورات اور انجیل کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔ یہ صرف قرآن کی خصوصیت ہے کہ اس کے ہر حرف پر دس نیکی رکھی گئی ہے۔ اسی طرح کی اور بہت سی باتیں وہ کہتے رہے۔ میں نے سوچا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں امانی (النساء ۱۲۳) کہا گیا ہے۔ یعنی آرزوئیں اور خوش گمانیاں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس دین پر کھڑے ہوئے ہیں وہ امانی کا دین ہے نہ کہ خدا کا اتارا ہوا دین۔ یکم اپریل ۱۹۹۰ میرے اندر سوچنے کی عادت ہے۔ میں اکثر کسی آیت یا کسی حدیث کے بارہ میں سوچتا رہتا ہوں، آج نماز کے لئے مسجد جاتے ہوئے یہ بات میرے ذہن میں آئی کہ صف بندی کے لئے حدیث میں جو حکم آیا ہے اس کا مطلب کیا ہے، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نماز کی صف میں خوب مل کر کھڑے ہو۔ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ شیطان صف کے خلل میں بکری کے بچہ کی طرح داخل ہو رہا ہے (انى لارى الشيطان يدخل من خلل الصف كانها الحذف )۔ اس حدیث میں خلل کا مطلب مجرد جگہ (space) نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ جب لوگ پاؤں کو پھیلا کر ایک دوسرے سے ملیں گے تو خود ایک آدمی کے دونوں پیروں کے درمیان میں اتنی جگہ ہو جائے گی کہ اس کے اندر سے " بکری کا بچہ" گزر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں خلل سے مراد دو آدمیوں کے درمیان خلل ہے نہ کہ دو پیروں کے درمیان خلل۔ اس حدیث میں اصل زور باہم مل کر کھڑے ہونے پر ہے ۔ باہم مل کر کھڑا ہونا اتفاق کی علامت ہے اور منتشر اندازی میں کھڑا ہونا اختلاف کی علامت۔ چنانچہ یہی بات دوسری روایت میں ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader