Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

لفظوں میں ہے: استو وا ولا تختلفوا فتختلف قلوبکم۔ اسٹیونسن (R. L. Stevenson) ۱۸۵۰ء میں ایڈنبرا میں پیدا ہوا، ۱۸۹۴ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ایک رائٹر تھا۔ اس کا ایک قول ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہم ان چیزوں سے محبت کرنے لگتے ہیں جن سے ہم نے نفرت کی تھی، اور وہ چیزیں ہمارے لئے قابل نفرت بن جاتی ہیں جن سے ہم نے محبت کی تھی: In the course of time, we grow to love things we once hated and hate things we loved. کشمیریوں کے بارہ میں یہ بات نہایت درست ہے۔ شیخ عبداللہ کی زندگی میں تمام کشمیری ان کو پوجتے تھے۔ اب وہی کشمیری شیخ عبد اللہ کو غدار کہتے ہیں۔ انھوں نے ان کا گھر جلا دیا۔ وہ اس پر تلے ہوئے ہیں کہ شیخ عبد اللہ کی قبر کو کھود کر ان کی ہڈیاں نکالیں اور ان کی بے حرمتی کریں۔ آجکل کشمیریوں پر پاکستان کی محبت سوار ہے۔ لیکن اگر بالفرض ایسا ہو جائے کہ کشمیر انڈیا سے الگ ہو کر پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائے تو یقینی ہے کہ آئندہ انھیں پاکستان سے نفرت ہو جائے گی۔ کیونکہ تخیل کے مقابلہ میں عملی حقیقت ہمیشہ کمتر ہوتی ہے۔ اس معاملہ میں کشمیریوں کا حال وہی ہو گا جو مشرقی بنگال (بنگلہ دیش) کا ہوا۔ پہلے انھوں نے انڈیا سے نفرت کر کے اپنے آپ کو پاکستان میں شامل کیا۔ اس کے بعد وہ پاکستان کے دشمن اور انڈیا کے دوست بن گئے اور ۱۹۷۱ء میں انڈیا کی مدد سے پاکستان سے لڑ کر علحدہ ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی محبت بھی بے معنی ہے اور اس قسم کی نفرت بھی بے معنی۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۰ء ۱۹۲۹ کا سال جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) کے لئے بڑا سخت سال تھا۔ مالی بحران کی وجہ سے جامعہ کے استادوں کی تنخواہیں رک گئیں۔ یہاں تک کہ آٹھ مہینے تک کسی کو تنخواہ نہیں ملی۔ حکیم اجمل خاں اس کی وجہ سے بہت فکر مند تھے۔ ایک دن انھوں نے قاضی عبدالغفار صاحب (استاد جامعہ) کو بلا کر انھیں اپنے پاس سے ایک ہیرے کی انگوٹھی دی۔ اور کہا کہ اس کو بیچٹی لے جائیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page