Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس کو بیچ کر جو رقم ملے اس سے استادوں کی تنخواہ ادا کیجئے ۔ اسی کے ساتھ حکیم صاحب نے ہدایت کی کہ اس انگوٹھی کو دلی میں فروخت نہ کرنا ۔ ۱۹۲۹ء میں اس انگوٹھی کی قیمت بیس ہزار روپیہ ملی تھی۔ اس رقم سے جامعہ کے استادوں کو تنخواہ دی گئیں اور جو رقم بچی وہ جامعہ کے فنڈ میں جمع کر دی گئی۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ "۱۹۲۹ء" میں جو لوگ جامعہ کی تحریک میں شریک ہوئے وہ اس میں کن جذبات کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ مگر جامعہ اپنی پوری مدت میں اپنے بانیوں جیسا ایک انسان بھی پیدا نہ کر سکا۔ حکیم اجمل خاں جیسے لوگ جامعہ کے باہر پیدا ہوئے۔ مگر وہ جامعہ کے اندر پیدا نہ ہو سکے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ مقصدی انسان کبھی مقصدی درس گاہوں میں پیدا نہیں ہوتے ۔ وہ ہمیشہ حالات کی درس گاہ اور افکار کے سیلاب میں پیدا ہوتے ہیں۔ ۴ اپریل ۱۹۹۰ء نوائے وقت (یکم اپریل ۱۹۹۰ء) کے ایک مضمون میں پاکستان کی پچاس سالہ سیاست کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ سابق صدر محمد ایوب خاں کی بابت یہ الفاظ درج ہیں : ” صدارتی نظام کے تحت ایوب خاں مرحوم کے دور میں اتنی صنعت کاری ہوئی کہ لوگ اب تک ان کے گن گاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ہر سو آسودگی دامن وامان کا دور دورہ جاری رہا۔ خوراک و دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتنا حقیر اضافہ ہوا کہ کسی نے محسوس تک نہ کیا۔ بحیثیت گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خاں کالا باغ نے سیاست دانوں کو سرکاری معاملات میں دخل نہ ہونے دیا۔ اور حکومت کا کاروبار کلیہ انتظامیہ کے ہاتھوں میں رہا۔ محکموں کے سیکریٹری اور سربراہ اپنے ذاتی فرائض کی انجام دہی کے ذمہ دار تھے جسے انھوں نے بطریق احسن نبھایا، کیونکہ قواعد وضوابط کی پابندی کی راہ میں سیاست دانوں کی مداخلت آڑے نہ آتی تھی ۔ “ صفحہ ۱۰۔ میرے نزدیک صدر ایوب خاں پاکستان کے سب سے بہتر حکمران تھے۔ ان کو کھونے کی سب سے زیادہ ذمہ داری نام نہاد اسلام پسند گروہ پر ہے۔ اس نے ایوب خاں کی بعض کمیوں کو اچھالا۔ اور عوام کو ان کے خلاف بھڑکا دیا۔ حالانکہ اس طرح کی جزئی کمیاں ہر شخص میں ہوتی ہیں اور ان کے سلسلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page