Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ یا تو انہیں نظر انداز کیا جائے یا خیر خواہانہ انداز میں خاموشی کے ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو کبھی کوئی پائیدار حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔ سعودی عرب میں مسجدوں میں اجتماع کرنا منع ہے۔ مسجدوں میں صرف نماز کے لئے جمع ہونے کی اجازت ہے، کسی اور مقصد کے لئے نہیں۔ تبلیغی جماعت کو بنیاد بنا کر اپنا کام کرتی ہے۔ اس بنا پر سعودی عرب میں ان کا کام بالکل بند ہوگیا تھا۔ ایک تبلیغی بزرگ نے بتایا کہ اب تبلیغ والوں نے اس کا حل تلاش کر لیا ہے۔ وہ یہ کہ مسجد کے بجائے گھر کو بنیاد بنا کر وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ وہ سب کچھ جو پہلے مسجدوں میں ہوتا تھا اب گھروں میں کیا جارہا ہے۔ البتہ یہ کام چھوٹے چھوٹے اجتماعات کی صورت میں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ گھروں کے اندر بڑے اجتماعات کئے جائیں تو دوبارہ حکومت باخبر ہو جائے گی اور یہاں بھی کام بند کرنے کا حکم جاری ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے۔ یہ اسی روح کے مطابق ہے جو قرآن میں ہے کہ واجعلوا بيوتكم قبلة واقيموا الصلاة۔ مگر عجیب بات ہے کہ سعودی عرب میں تو مسلمان مسجد کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگئے اور ہندوستان میں سڑک کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ ہندوستان کے فسادات زیادہ تر سڑک کی سیاست کے نتیجہ میں ہوتے ہیں۔ مگر مسلمان اس کے لئے تیار نہیں۔ سعودی عرب میں مسجد کو بنیاد بنا کر کام کرنے کے مواقع نہیں تھے تو انھوں نے گھر کو بنیاد بنا کر کام کرنا شروع کر دیا۔ یہی ہندوستان میں کرنا چاہئے ۔ یہاں اگر سڑک کو بنیاد بنا کر قومی تعمیر کے مواقع نہیں ہیں تو وہ سڑک کے باہر دوسرا میدان اپنے لئے تلاش کر لیں اور وہاں اپنا تعمیری کام جاری کر دیں۔ کالی مسجد میں فجر کی نماز پڑھ کر نکلا۔ فمن میں امام صاحب کی پرجوش تقریر تھی جو انھوں نے نماز کے بعد وقت، دیوار کے پاس منکا تھی، سوچتے ہوئے اچانک زبان سے نکلا" مسئلہ خدا کا ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page