آغازِ کلام
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ظلم اور مؤامرہ (سازش)، کے خلاف ہر جگہ چیخ پکار ہو رہا ہے۔ میں اس کو بالکل لغو سمجھتا ہوں۔ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے، وہ انسان کی طرف سے نہیں ہے بلکہ براہ راست خدا کی طرف سے ہے۔ عہد خداوندی کے معاملہ میں مسلمانوں نے جو کوتاہی کر رکھی ہے۔ اس پر انہیں ہر جگہ تنبیہ کی جارہی ہے۔ مسلمان خدا کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرکے اس صور تحال سے نجات پاسکتے ہیں۔ دوسری قوموں سے لڑنایا ان کے خلاف احتجاج کرنا کسی بھی درجہ میں ان کے مسئلہ کو حل کرنے والا نہیں۔ ۷ اپریل ۱۹۹۰ء انڈین ایئر لائنز نے فرانس سے پندرہ ایئر بس (اے ۳۲۰) خریدی۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۰ کو ان میں سے ایک ایئر بس بنگلور ہوائی اڈہ کے پاس گر کر تباہ ہوگئی۔ اس کے بعد بقیہ چودہ جہاز زمین پر اتار دئے گئے ہیں۔ ان کا استعمال بند کر دیا گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (۷ اپریل ۱۹۹۰) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے انڈیا کو پچھلے چھ ہفتہ میں ۲۵ کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ کرایہ کا نقصان اور ہوائی اڈوں پر ٹھہرانے کا ججزانہ سب ملا کر روزہانہ چودہ لاکھ روپہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف آج ہی کے اخبار میں یہ خبر ہے کہ ۱۱ اپریل ۱۹۹۰ سے انڈین ایئر لائنز کے کرایہ میں پندرہ فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آزادی کے بعد ملک میں جو حکومتیں قائم ہوئیں، ان کا مستقل ریکارڈ یہی ہے کہ وہ اپنے نکمے پن کی وجہ سے ملکی خزانہ پر بوجھ بڑھاتی ہیں اور پھر اس کی تلافی کے لئے ہر سال ٹیکس میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ آزادی سے ہندوستان کو ایک نفسیاتی فخر کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ بظاہر ۱۹۴۷ کے بعد جو ترقیاں نظر آتی ہیں وہ زمانہ کا عطیہ ہیں نہ کہ ہماری حکومتوں کا عطیہ۔ ۸ اپریل ۱۹۹۰ء قاضی عبد الغفار صاحب (۱۹۵۶ - ۱۸۸۹) مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ آزادی کی تحریک میں شامل تھے۔ قومی آواز (۱۸ اپریل ۱۹۹۰) میں ان کے بارہ میں ایک مضمون سری نواس لاہوٹی کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ وہ قاضی عبد الغفار کے حالات کے ذیل میں لکھتے ہیں: "قاضی صاحب نے علی گڑھ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ان کے والد (خان بہادر ابرار احمد) نے گورنر سے کہہ کر ان کو آب پاشی کے محکمہ میں ملازم رکھوادیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ گورنر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader