آغازِ کلام
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کوئی ہندوستانی ملنے جاتا تو اسے اپنے جوتے اتار کر ننگے پیر جانا پڑتا تھا، اور یہی صورت حال قاضی صاحب کے ساتھ پیش آئی۔ حالانکہ یہ فل سوٹ زیب تن کئے ہوئے تھے۔ اس واقعہ سے ان کو بڑا صدمہ ہوا (جلدی بعد انھوں نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی)۔ قاضی صاحب اگر سوچتے کہ ملاقات کے یہی آداب مسلم بادشاہوں اور مسلم نوابوں کے یہاں بھی رائج ہیں تو یہ بات ان کو زمانہ کی بات لگتی، مگر اس طرح نہ سوچنے کی وجہ سے یہ بات انھیں انگریز کی بات محسوس ہوئی۔ پہلی صورت میں وہ اس کو زمانہ کے خانہ میں ڈالتے، دوسری صورت میں انھوں نے اس کو انگریز کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہی غیر حقیقت پسندانہ طرز فکر ہے جس کی وجہ سے بے شمار مسلمان ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ وہ انگریز سے نفرت میں مبتلا ہو کر انگریز سے لڑنے لگے۔ حالانکہ اصل ضرورت یہ تھی انگریز کی طاقت اور مغربی تہذیب کو سمجھا جائے۔ مگر نفرت کی نفسیات اس میں رکاوٹ بن گئی کہ وہ معاملہ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں اور اس کے مطابق تعمیر کا عمل جاری کریں۔ ۱۹اپریل ۱۹۹۰ء روی ابو داؤد والنسائي وابن ماجه والامام احمد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يأتى على الناس زمان يأكلون فيه الربا۔ قيل له الناس كلهم۔ قال من لم يأكله ناله غبار۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں لوگ سود کھائیں گے۔ کہا گیا کہ سب لوگ۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو نہیں کھائے گا اس تک بھی اس کا غبار پہنچے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ہے۔ موجودہ صنعتی دور میں تمام اقتصادی سرگرمیاں بینک سے وابستہ ہو گئی ہیں۔ آج آپ بازار سے ایک دیا سلائی بھی خریدتے ہیں تو اس کے ساتھ بالواسطہ طور پر سود کی ایک رقم ادا کرتے ہیں۔ یہ صورت حال تمام تر جدید صنعتی نظام کی پیداوار ہے۔ یہ ماضی میں بالکل موجود نہ تھی۔ ایسی حالت میں چودہ سو سال پہلے کسی کا ایسی بات کہنا صرف اسی وقت ممکن تھا جب عالم الغیب کی طرف سے اس کو مستقبل کے اس واقعہ کی خبر دے دی گئی ہو۔ یہ آپ کے پیغمبر خدا ہونے کا ایک ثبوت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader