آغازِ کلام
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ گورنمنٹ میں بڑے عہدہ پر تھے۔ اب دہلی میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ جیسے علماء اسلام کو بالکل نہیں سمجھتے۔ آپ لوگ اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر کے دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام اور مسلمان دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔ آپ لوگوں کے اس نظریہ نے اسلام کو جامد اور غیر ترقی یافتہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ بات اس طرح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل سے جانچنا چاہئے ۔ اس کے برعکس ہمارا کہنا ہے کہ اصل معیار اسلام ہے، اور ہمیں چاہئے کہ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کے معیار سے جانچیں۔ 11 اپریل 1990 پاکستان کے مشہور اخبار نوائے وقت (یکم اپریل 1990) میں محمد ابراہیم صاحب کا ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ پاکستان میں "سیاست دانوں کا کردار کبھی مستحسن نہیں ہوا۔ ان کی بدعنوانیاں آغاز کار سے ہی سطح پر آگئیں۔ چنانچہ وقت قائد اعظم (محمد علی جناح) کو بادل ناخواستہ یہ کہنا پڑا کہ ان کے پاس سب سکے کھوٹے ہیں"۔ میں کہوں گا کہ مسٹر جناح نے اپنی غلطی دوسروں کے سر ڈال دی۔ ان کو یہ بات پاکستان بنوانے سے پہلے جاننا چاہئے تھا کہ ان کے تمام سکے کھوٹے ہیں۔ اگر وہ پیشگی سوچ کے تحت نہ جان سکے، اس کو انھوں نے عملی تجربہ کے بعد جانا تو وہ قائد اعظم تو درکنار قائد اصغر بھی نہ تھے۔ 12 اپریل 1990 پروفیسر مشیر الحق (وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی) کو کشمیر کے جنگ جو نوجوانوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ 11 اپریل کو ان کی لاش سرینگر سے دہلی بذریعہ ہوائی جہاز لائی گئی۔ 12 اور 12 اپریل کی درمیانی رات کو ساڑھے دس بجے نماز جنازہ جامعہ کے احاطہ میں پڑھی گئی۔ تقریباً پانچ ہزار آدمی جنازہ میں موجود تھے۔ جامعہ مڈل اسکول کے گراؤنڈ میں میں انتظار میں کھڑا تھا کہ نماز جنازہ شروع ہو تو میں اس میں شرکت کروں۔ اتنے میں شور بلند ہوا کہ مکرمہ روزی عارف محمد خاں جنازہ میں شرکت کے لئے آئے ہیں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader