آغازِ کلام
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
کے سر میں زخم آئے۔ ان کی کار کو نقصان پہنچا۔ وغیرہ۔ یہ پر تشدد مظاہرہ جامعہ کی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کی قیادت میں ہوا۔ عارف محمد خاں پروفیسر شیراخی کے شاگرد ہیں۔ مگر انہیں جنازہ میں شرکت کے بغیر واپس جانا پڑا۔ جامعہ کے ایک استاد نے کہا کہ لوگوں میں غم و غصہ تھا، اس لئے مرکزی حکومت میں کہلا دیا گیا تھا کہ وہاں کا کوئی آدمی جنازہ میں شریک نہ ہو۔ ورنہ لڑاکے ہنگامہ کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو چاہئے تھا کہ اپنے لڑکوں کو منع کریں نہ کہ دوسروں کو شرکت جنازہ سے روکیں۔ جنازہ کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کا ذہن زندگی سے موت کی طرف مڑ جائے، وہ دنیا کے بجائے آخرت کے بارہ میں سوچنے لگے۔ ایسے وقت میں بھی مسلمانوں کے دل نرم نہیں ہوتے۔ جنازہ کے وقت نعرہ بازی اور سنگ باری کرنا خدا کے غضب کو بھڑکانا ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے نوجوان اس قسم کے بیہودہ کاموں میں مشغول ہیں اور ان کے بڑے بالواسطہ طور پر ان کی تائید کر رہے ہیں۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۰ آج ٹائمز آف انڈیا نے ٹامس کارلائل (Thomas Carlyle) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ محبت کرنے والا دل تمام علم کا آغاز ہے: A loving heart is the beginning of all knowledge. "محبت کرنے والا دل "ایک سادہ سی بات نہیں۔ محبت کرنے والا دل کسی شخص کو سخت محنت کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اس دنیا میں طرح طرح کے شخصی اور قومی اسباب پیش آتے ہیں جو آدمی کے اندر دوسروں کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑکاتے ہیں۔ اس لئے اس دنیا میں وہی شخص محبت کر سکتا ہے جو نفرت کے اسباب کے باوجود محبت کر سکے۔ جو آدمی اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دے، اس نے گویا اپنے اندر بلند فکری پیدا کر لی۔ اور بلند فکری ہی، بلاشبہ تمام علمی و فکری ترقی کا سر چشمہ ہے۔ کویت کا عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (رمضان ۱۴۱۰ھ ، اپریل ۱۹۹۰) پڑھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ ۶۲ پر عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی ایک دعا نقل کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader