آغازِ کلام
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
لینکاٹ این ڈریوز (Lancelot Andrews) کا قول ہے کہ چرچ جتنا زیادہ قریب ہو اتنا ہی زیادہ آدمی خدا سے دور ہو گا: The nearer the church, the farther from God. دوسرے مذاہب میں جو بگاڑ اور تحریف ہوئی، اس کے نتیجہ میں ان کے عبادت خانوں کا حلیہ اتنا بگڑ گیا کہ وہ انسانی فطرت کے لئے خدا سے دوری کا سبب بن گئے۔ تاہم موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں بہت زیادہ مختلف نہیں۔ دوسرے مذاہب میں تحریف کے نتیجہ میں ان کا حلیہ بگڑا تھا، موجودہ مسلمانوں نے اپنی اخلاقی گراوٹ کے نتیجہ میں اپنے مذہبی اداروں اور اپنے عبادت خانوں کا حلیہ بگاڑ رکھا ہے۔ حتی کہ مسلمانوں کے موجودہ مذہبی ادارے خدا کے بندوں کو دین سے بیزار کرنے کا سبب بن رہے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ ان کو دین سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں۔ ۴ فروری ۱۹۸۹ ڈاکٹر عبد اللہ عزام کی ایک کتاب ہے جس کا نام المنارة المفقودة ہے۔ یہ کتاب مصطفیٰ کمال اتاترک (۱۹۳۸ء ۔ ۱۸۸۰ء) کے خلاف ہے۔ اس میں ترک لیڈر کے بارہ میں انور پاشا کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے انجمن اتحاد و ترقی کے لوگوں سے کہا تھا : لیکن في علمكم ان مصطفیٰ کمال اذا ترقی الى رتبته الباشا فانه يرغب ان يكون سلطاناً ، واذ اصبح سلطاناً فانه يرغب ان يكون انها (صفحہ ۸) تم کو جان لینا چاہئے کہ مصطفیٰ کمال اگر پاشا کے مرتبہ تک پہنچ جائیں تو وہ سلطان بننا چاہیں گے اور اگر وہ سلطان ہو جائیں تو وہ چاہیں گے کہ وہ خدا بن جائیں) مصطفیٰ کمال کی نفسیات کے بارہ میں ان کے ساتھی کے اس تبصرہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں تاہم میں اس میں اضافہ کرنا چاہوں گا کہ، کم از کم موجودہ زمانہ میں، تمام مسلم لیڈروں کی نفسیات یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader