آغازِ کلام
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
یاربِّ أنتَ أنتَ وَ أنا أنا - انا العوّادُ بالذَّنبِ وأنتَ العوّادُ بالمَغفرةِ ، فَاغْفِرْ لي۔ اے میرے رب ، تو تو ہے اور میں میں ہوں۔ میں بار بار گناہ کرتا ہوں اور تو بار بار بخشش فرماتا ہے ، پس تو مجھے بخش دے۔ اس دعا میں اپنی عبدیت اور خدا کی معبودیت کا جو والہانہ اعتراف ہے، وہ بہت عجیب ہے۔ اس میں دوسرا سبق یہ ہے کہ اسلام ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے کہ بادشاہ اپنی ساری بادشاہی کے باوجود اپنے کو چھوٹا سمجھنے پر مجبور ہو جائے۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۰ء کشمیر میں آجکل دہشت گردی کی جو تحریک چل رہی ہے، اس میں اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کو بھی برباد کر دیا گیا ہے۔ قومی آواز (۱۲ اپریل ۱۹۹۰ء) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں بہت سے دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔ پولیس ان سے سوال وجواب کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے : " جب دہشت گردوں سے پوچھا گیا کہ انھوں نے وادی کشمیر میں اسکولوں کی عمارتوں کو کیوں آگ لگادی۔ انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ان اسکولوں میں سیکولرزم کا سبق سکھایا جاتا ہے، جب کہ ہم نظام مصطفیٰ قائم کرنا چاہتے ہیں۔" کشمیر کے ان انتہا پسندوں کے فکری رہنما اقبال ، سید قطب اور ابو الاعلیٰ مودودی ہیں۔ اور ان کو ایران اور افغانستان کے جہاد سے عملی جوش ملا ہے۔ اور یہ تمام لوگ مغربی طرز تعلیم کے سخت خلاف رہے ہیں۔ مثلاً ابو الاعلیٰ مودودی نے جدید تعلیم گاہوں کو " قتل گاہ " بتایا ہے۔ وغیرہ۔ میرے نزدیک یہ سب مجنونانہ باتیں ہیں۔ ان کا آخری انجام ملت کی بربادی کے سواکسی اور شکل میں نکلنے والا نہیں۔ ۱۶ اپریل ۱۹۹۰ء آج رمضان ۱۴۱۰ھ کی ۱۹ تاریخ ہے۔ روزہ کے سلسلہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر کم کھاؤں تو پیٹ ہلکا رہتا ہے مگر دن بھر بھوک کا احساس غالب رہتا ہے۔ اور اگر زیادہ کھاؤں تو بھوک کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader