Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

احساس نہیں ہوتا، مگر سارے دن پیٹ بھاری رہتا ہے۔ میں نے دوسری صورت کے مقابلہ میں پہلی صورت کو ترجیح دی ہے۔ دن بھر پیٹ کا بھاری رہنا مجھے پسند نہیں۔ مجھ کو یہ بات زیادہ پسند ہے کہ طبیعت ہلکی رہے، خواہ وہ بھوک کی قیمت پر کیوں نہ ہو۔ موجودہ دنیا صرف کھونے کی دنیا ہے اور آخرت کی دنیا صرف پانے کی دنیا۔ آدمی کا حال بھی کیسا عجیب ہے۔ وہ محرومی کی دنیا میں پانا چاہتا ہے، اور جو دنیا پانے کے لئے ہے وہاں وہ مسلسل کھو رہا ہے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۰ء کارل مارکس (۱۸۸۳- ۱۸۱۸) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے موجودہ دنیا پر سب سے زیادہ فکری اثر ڈالا ہے۔ یہ بات اس اضافے کے ساتھ صحیح ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں مسلمان بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ مارکس سے متاثر ہونے والے مسلمانوں میں ایک طبقہ ہے جو باقاعدہ مارکسسٹ بن گیا۔ ان کے علاوہ بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو اپنے آپ کو مارکسی نہیں کہتے۔ مگر وہ نہایت گہرے طور پر اس کی فکر سے متاثر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے مارکسیت کو اسلامائز کیا۔ مارکسی فکر کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک اس کا مخصوص نظریہ، دوسرا اس کا طریقہ (Method) میرے نزدیک غلام احمد پرویز (۱۹۸۵ - ۱۹۱۰) نے مارکس کے نظریہ کو اسلامائز کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور ابو الاعلیٰ مودودی (۱۹۷۹ - ۱۹۰۳) وہ شخص ہیں جنھوں نے مارکسزم کے طریقہ کو اسلامائز کیا۔ مارکس کے طریقہ کا بنیادی پہلو شکست نظام ہے۔ اس کو ابو الاعلیٰ مودودی نے اسلامی اصطلاحوں میں لے لیا۔ حالانکہ مارکسی طریقہ اسلام کی عین ضد ہے۔ اسلام کا طریقہ اصلا شکست ذہن ہے نہ کہ شکست نظام۔ ابو الاعلیٰ مودودی کی اسی فکر کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے لٹریچر سے متاثر ہونے والے لوگ ساری دنیا میں ستم کو توڑنے والی باتیں کر رہے ہیں۔ اور جہاں مواقع ہیں، وہاں تشدد کے ذریعہ نظام کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان کے اندر صحیح اسلامی ذہن ہوتا تو وہ فکر میں تبدیلی لانے پر ساری طاقت خرچ کرتے نہ کہ سیاسی ڈھانچہ کو توڑنے پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page