Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں نے پیدائش، موت، شادی بیاہ وغیرہ مواقع پر بہت سے بدعتی طریقے اختیار کر لئے ہیں۔ مگر ان کی سب سے بڑی بدعتیں وہ ہیں جو انہوں نے مسجد اور عبادت کے ساتھ شامل کر رکھی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک اشتعال انگیز حد تک لغو بدعت یہ ہے کہ درود و سلام کے نام پر مسلمانوں نے کچھ خود ساختہ کلمات اور اشعار وضع کر لئے ہیں۔ مثلاً الصلاۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ، یا اے خدا کے لاڈلے، وغیرہ۔ فجر کے وقت اذان سے پہلے یہ کلمات دیر تک مسجد میں دہرائے جاتے ہیں۔ اور نمازِ فجر کے بعد دوبارہ کئی مسلمان مل کر ان کو ادا کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ درود و سلام ہمیشہ لاؤڈ اسپیکر پر ہوتا ہے۔ یہ آواز میں تقریباً ایک میل کے دائرہ میں پھیلتی ہیں۔ مگر وہ دوسروں کے لئے صرف شور و غل ہوتا ہے، کیوں کہ مسجد کے باہر وہ صرف شور کی صورت میں سنائی دیتا ہے۔ غیر مسلموں کو بھی مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اس شور کو سنیں۔ نماز کسی زمانہ میں پر سکون عبادت کا نام تھی۔ اب لاؤڈ اسپیکر کے زمانہ میں وہ لوگوں کی نیند میں خلل ڈالنے اور لوگوں کے سکون کو برہم کرنے کا نام بن گئی ہے۔ ہندوستان کے علماء اور رہنما آج کل سب سے زیادہ ملی تشخص کے مسئلہ پر تقریریں کر رہے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ اس قسم کی بدعتیں ہیں جنھوں نے اسلام کے تشخص کو بگاڑ رکھا ہے۔ اس کی وجہ سے غیر مسلموں کی نظر میں نماز کی تصویر ایک مجنونانہ قسم کے شور و غل کی ہو کر رہ جاتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جو لوگ ملی تشخص کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں، وہ اسلامی اور عبادتی تشخص کے اس سنگین تر مسئلہ پر بالکل خاموش ہیں۔ ۱۹ اپریل ۱۹۹۰ قرآن سے استدلال کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے خدا کے کلام سے خدا کی بات نکالنا۔ دوسرا ہے خدا کے کلام سے اپنی بات نکالنا۔ دوسرے طریقہ استدلال کی مثالیں شیعہ حضرات کے یہاں بہت پائی جاتی ہیں۔ خلفائے امام کے بارہ میں ان کا عقیدہ۔ ان کا کہنا ہے کہ نبوت کے بعد امامت کا تسلسل جاری ہے۔ امام نبی کی طرح مامور من اللہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الائمۃ نور الله۔ اس کا ثبوت : عن ابی خالد الکابلی سالت ابا جعفر عن قول الله عز وجل آمنوا بالله و رسوله

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page