Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

والنور الذي انزلنا) فقال یا ابا خالد النور و الله الائمۃ (اصول کافی) ابو خالد الکابی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر (امام باقر) سے اس آیت کے بارہ میں پوچھا کہ "ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اس نور پر جو ہم نے اتارا" انھوں نے جواب دیا کہ اے ابو خالد، نور سے مراد خدا کی قسم ائمہ ہیں۔ یہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال نہیں۔ یہ خدا کے کلام میں اپنی بات کو جوڑنا ہے۔ یہ میدان بے حد وسیع ہے۔ آپ قرآن سے ایک لفظ لیں اور اس میں جو لفظ چاہیں جوڑ دیں، اور کہیں کہ دیکھو، یہ میری بات قرآن میں موجود ہے۔ ۲۰ اپریل ۱۹۹۰ء پروفیسر مشیر الحق (۱۹۹۰- ۱۹۳۳) کشمیر یونیورسٹی میں وائس چانسلر تھے۔ کئی دن سے ان کے بارے میں تشویش ناک خبریں آ رہی تھیں۔ کشمیر کے جنگجو نوجوانوں نے ۱۶ اپریل ۱۹۹۰ کو انھیں عین اس وقت اغوا کر لیا۔ جب کہ وہ سرینگر میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد جا رہے تھے۔ وہ مسلسل دھمکی دے رہے تھے کہ ہمارے گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے ورنہ ہم مشیر الحق اور دوسرے یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔ ۱۱ اپریل (۱۳ رمضان ۱۴۱۰ھ) کو صبح ۸ بجے میں اپنے مطالعہ کے کمرے میں تھا کہ اچانک میری اہلیہ کمرہ میں داخل ہوئیں۔ "ریڈیو نے خبر کی تصدیق کر دی۔" انھوں نے کہا۔ " آج صبح آل انڈیا ریڈیو نے بتیا کہ کشمیری دہشت پسندوں نے پروفیسر مشیر الحق اور ان کے سکریٹری مسٹر عبد الغنی کو گولی مار دی اور ان کی لاش کو سڑک پر پھینک دیا۔ میری زبان سے بے ساختہ نکلا "یا اللہ، یا اللہ۔" میں کتاب بند کر کے اٹھا۔ غسل خانہ میں جا کر وضو کیا۔ میرا دل ٹوٹ رہا تھا۔ غم کی شدت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میرے دماغ سے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے۔ بے اختیاری کے عالم میں میری زبان سے نکلا : خدایا، دو رکعت صلاۃ استہدا، قبول فرمائیے۔ طلب ہدایت کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھی۔ آخر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ خدایا، آپ کے رسول کی امت بھٹک گئی۔ جھوٹے رہنماؤں نے دین رحمت کے ماننے والوں کو دین تخریب کے راستہ پر ڈال دیا۔ خدایا، اس امت کی ہدایت کا سامان کیجئے ۔ اس امت کو بربادی سے بچا لیجئے ۔ دین کے نام پر اسی بے دینی کا نام شاید جہلیت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page