Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

لاہور کے اخبار وضافق (۱۰اپریل ۱۹۹۰) میں مسٹر محمد علی جناح کے کچھ واقعات شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ مضمون نگار کے الفاظ میں یہ ہے: "ایک مرتبہ ایک ہندو صحافی نے کہا کہ مسٹر جناح آج آپ کانگریس کو بہت برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود پہلے کانگریس میں تھے۔ اور آپ وہیں سے ابھرے ہیں۔ مسٹر جناح نے اس کا پر لطف جواب دیا جس کو سن کر صحافی چپ ہو گیا۔ انھوں نے کہا: آپ کو معلوم ہے کہ میں کسی زمانہ میں مڈل اسکول میں بھی پڑھتا تھا۔" مسٹر جناح کے نظریات سے مجھے اتفاق نہیں۔ مگر ان کا یہ جواب مجھے پسند آیا۔ اس طرح کے سوال کا یہ بہترین جواب ہے۔ ۲۲ اپریل ۱۹۹۰ء قدیم شاہی زمانہ میں ایک یا چند اشخاص بھی سیاست پر قابض ہو جاتے تھے۔ مگر جمہوریت کے زمانہ میں جو چیز فیصلہ کن ہے وہ تعداد ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ سیاست گنتیوں کا کھیل ہے: Politics is the game of numbers مگر مسلمان شاید یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست الفاظ کا کھیل ہے۔ چنانچہ ہر آدمی الفاظ کے شعبدے دکھا رہا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ سیاست کا اونچا مینار تعمیر کر رہا ہے۔ سیاسی اعتبار سے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے پہلا ممکن کام یہ تھا کہ وہ اپنے ووٹروں کو متحد کریں۔ مگر پچاس سال کی ناکام سیاست کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکے۔ دوسری چیز یہ تھی کہ وہ ہندوستان کے دوسرے طبقات کو کم از کم سیاسی اعتبار سے اپنے ساتھ لے سکتے۔ مثال کے طور پر ان کے لئے ممکن تھا کہ وہ ہریجنوں کو سیاسی طور پر اپنے ساتھ کر لیں۔ بہت سے لیڈر یہ نعرہ لے کر اٹھے۔ مگر سب کے سب ناکام رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لیڈروں نے ہریجنوں کی ترقی کے لئے تو کچھ نہیں کیا۔ بس یک طرفہ طور پر ان کو اپنے لئے استعمال کرنے کی بات کرتے رہے۔ اسی صورتحال کی بابت ڈاکٹر امبیڈ کرنے ان لفظوں میں شکوہ کیا تھا کہ مسلمان ہریجنوں کی حمایت تو چاہتے ہیں مگر انھوں نے کبھی بھی ہریجنوں کو اپنی حمایت نہیں دی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page