آغازِ کلام
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
The Muslims wanted the support of the scheduled castes, but they never gave their support to the scheduled castes. (p. 324) اس قسم کی ایک طرفہ ہوشیاری اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۰ء پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۱۱ اپریل ۱۹۹۰ء) کے اداریہ کی سرخی ہے : " جناب صدر، داخلی سیز فائر کرائیے۔ اس سرخی کا پس منظر یہ ہے کہ پاکستان میں، خاص طور پر سندھ میں تشدد کا طوفان برپا ہے۔ اخبار کے لفظ میں " باہمی سر پھٹول " اپنے شباب پر ہے۔ گولی اور آتش زنی روزانہ کا معمول بن گئے ہیں۔ نوائے وقت کے مطابق ، کراچی آتش فشاں کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور دس ہزار فوجی کراچی میں قیام امن کے لئے متعین کئے جا چکے ہیں۔ اس قسم کی باتیں میرے نزدیک سراسر بے معنی ہیں۔ آجکل میرے پاس دو پاکستانی اخبار آرہے ہیں۔ ایک نوائے وقت ، دوسرا وفاق ۔ دونوں اخبار کے صفحات کشمیری نوجوانوں کے پرتشدد واقعات سے بھرے ہوتے ہیں جن کو یہ اخبارات دہشت گردی کے بجائے جہاد کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ پروفیسر مشیر الحق جیسے بے ضرر انسان کے مجرمانہ قتل کو پاکستانی اخباروں میں مذمت تو در کنار ، اظہار افسوس کا بھی کوئی لفظ پڑھنے کو نہیں ملا۔ نوائے وقت (۱۲ اپریل ۱۹۹۰ء) میں اس کی خبر ان الفاظ میں دی گئی ہے : کشمیری حریت پسندوں نے کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مشیر الحق اور ان کے سکریٹری عبد الغنی کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ اور گولیوں سے چھلنی دونوں کی نعشیں سرینگر میں مل گئی ہیں: ایک طرف پاکستان کے باہر تشدد کو گلوریفائی کرنا اور دوسری طرف پاکستان کے اندر تشدد بند کرنے کی اپیل کرنا ، دونوں متضاد باتیں ہیں۔ اور اس قسم کا تضاد کبھی اس دنیا میں واقعہ نہیں بنتا۔ ۲۴ اپریل ۱۹۹۰ء ڈاکٹر غلام محمد شاہ کشمیری اترہ گام) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ کشمیر کے نام نہاد مجاہدین کا یہ کہنا ہے کہ "ہم بندوق کی نوک پر کشمیر میں اسلام لائیں گے"۔ میں نے کہا کہ پھر کشمیر کے ان مجاہدین کو کہنا چاہئے کہ وہ خدا اور رسول سے بھی زیادہ طاقت ور ہیں۔ کیوں کہ حضرت عائشہ کی روایت کے مطابق ، عرب میں پہلے دلوں کو بدلا گیا، اس کے بعد اسلام کا قانون

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader