آغازِ کلام
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
نافذ کیا گیا۔ مگر کشمیری مجاہدین دلوں کو بدلے بغیر بم اور گولی کی منطق سے اسلام کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کشمیر میں اسلام تو نہیں آ سکتا، البتہ تباہی اور بربادی ضرور آئے گی، اور یہ تباہی پھیلی تمام تباہیوں سے بڑھ کر ہوگی۔ میں نے کہا کہ اسلام میں جنگ برائے دفاع ہے نہ کہ برائے نفاذِ اسلام۔ کسی گروہ میں اسلام کو لانے کے لئے سارا عمل دعوتی انداز میں کیا جاتا ہے۔ جنگ صرف اس وقت کی جاتی ہے جب کہ دفاع کے لئے لڑنے کی ناگزیر ضرورت پیش آئے۔ جنگ کو اشاعتِ اسلام کے ساتھ جوڑنے کا نظریہ سراسر لغو نظریہ ہے۔ اس کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ جنگ کو اشاعتِ اسلام یا نفاذِ اسلام کا ذریعہ بنانا ابو الاعلیٰ مودودی کی بدعت ہے جس کو انھوں نے "الجہاد فی الاسلام" میں پیش کیا ہے۔ مگر یہ ایسا نظریہ ہے جس کے لئے قرآن و حدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ ۲۵ اپریل ۱۹۹۰ کراچی کے فضل الرحمان صاحب (۱۹۸۹ - ۱۹۳۴) اور فیصل آباد کے مولانا عبد الغفار حسن صاحب دونوں رسالہ کے بہت قدر داں تھے۔ دونوں کئی سال سے کوشش کر رہے تھے کہ ڈکلیر یشن مل جائے تو پاکستان سے رسالہ کا ایڈیشن نکالیں۔ مگر جنرل ضیاء الحق کی حکومت (۱۹۸۸ - ۱۹۷۷) کے زمانہ میں صحافت کے لئے قوانین اتنے سخت تھے کہ آخر وقت تک الرسالہ کا ڈکلیر یشن نہ مل سکا۔ یہ بھی ایک مثال ہے کہ فوجی ڈکٹیٹر شپ اندھی ہوتی ہے۔ الرسالہ جو لوگ پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ ایک غیر سیاسی پر چہ ہے۔ مزید یہ کہ اس کا مسلک یہ ہے کہ حکمرا نوں سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے تعمیری اور دعوتی میدان میں کام کرو۔ اس کے باوجود ضیاء الحق صاحب کی فوجی حکومت نے الرسالہ کے اجرا د کے لئے ڈکلیریشن نہیں دیا۔ بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومت آئی تو صحافت کے قوانین نرم کر دئے گئے۔ چنانچہ بیک وقت دو ڈکلیریشن مل گئے۔ میں نے فضل الرحمان صاحب (فضل سنز لینڈ) کو ترجیح دی۔ چنانچہ ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادہ طارق رحمن صاحب نے الرسالہ کو کراچی سے چھاپنا شروع کر دیا۔ مارچ ۱۹۹۰ میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا ہے۔ یہ مکمل طور پر دہی ایڈیشن کی نقل ہوتا ہے۔ پاکستان سے الرسالہ کی اشاعت الرسالہ مشن کے لئے ایک نئی جست ہے۔ اللہ تعالیٰ اس جست کو کامیابی عطا فرمائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader