آغازِ کلام
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
آج رمضان (۱۴۱۰ھ) کے مہینے کا آخری روزہ تھا۔ عید کے چاند کی عام رویت ہوئی۔ میں نے بھی نماز مغرب کے بعد چاند دیکھا۔ چاند کو دیکھتے ہی ایک عجیب احساس ہوا۔ زبان پر فوراً یہ کلمات آگئے: اللہم اہلہ علینا بالامن و الایمان والسلامۃ والاسلام رمضان کی پہلی تاریخ آئی تو میں ڈر رہا تھا کہ اس شدید موسم میں ایک مہینہ کا روزہ کس طرح پورا ہوگا۔ مگر آج جب کہ روزہ کا مہینہ ختم ہو گیا تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روزہ کا مہینہ گویا آیا نہ تھا۔ اسی طرح بندہ جب آخرت کے راستہ پر چلنے کی بنا پر دنیا کی تکلیف اٹھاتا ہے تو آج یہ تکلیفیں بظاہر بہت سخت معلوم ہوتی ہیں۔ مگر جب آخرت آئے گی اور آدمی دنیا کے صبر اور مشقت کی جزا کو دیکھے گا تو اس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ اس نے کبھی تکلیف اٹھائی ہی نہ تھی۔ ۲۷ اپریل ۱۹۹۰ آج عید کا دن ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کا ہفت روزہ اخبار ’’الجمعیۃ‘‘ کا عید نمبر یکم شوال ۱۴۱۰ھ آیا تو اس کے ورق پر جلی حروف میں یہ مضمون لکھا ہوا تھا: عید کا دن مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے مگر جب خوشی کے حالات نہ ہوں تو عید کا دن عہد کا دن ہوتا ہے میں نے اس کو پڑھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ عبارت میری لکھی ہوئی ہے۔ چنانچہ الجمعیۃ ویکلی کی پرانی فائل نکالی جب کہ الجمعیۃ میری ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے شمارہ ۲ جنوری ۱۹۶۸ میں صفحہ ۴ پر یہی یہی مضمون میرے نام کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ اسی کو موجودہ الجمعیۃ میں میرے نام کے بغیر شائع کر دیا گیا ہے۔ اردو اخبارات و رسائل کثرت سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ انھیں میرا نام چھاپنا تو گوارا نہیں۔ البتہ میرے مضامین کو وہ حوالہ کے بغیر بے دھڑک چھاپ رہے ہیں۔ جو قوم پست اخلاقی کی اس سطح پر ہو، اس سے آخر کسی بڑے کارنامہ کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے۔ "اعتراف" تمام نیکیوں کا آغاز ہے۔ جن لوگوں میں سے اعتراف اٹھ جائے وہ کوئی اور نیکی کا کام ہرگز نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader