Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

احمد شوقی (۱۳۲۱ - ۱۸۶۸) ایک عرب شاعر تھے۔ ان کا دیوان شوقیات کے نام سے چھپا ہے۔ ان کو امیر الشعراء کا خطاب دیا گیا تھا۔ امیر شکیب ارسلان (۱۹۴۶- ۱۸۶۹) احمد شوقی سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں احمد شوقی کے بارہ میں کہا تھا : فرأيت شوقي لم يدع في عصره قرناً بمز قناته لقناته میں سمجھتا ہوں کہ شوقی نے اپنے زمانہ میں کوئی ہمسر نہیں چھوڑا جو اپنی لاٹھی کو اس کی لاٹھی سے ٹکرا سکے۔ شاعر الفاظ کی سطح پر اپنی دنیا تعمیر کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر ایسے شاعر پیدا ہوئے جنھوں نے الفاظ کے ذریعہ بلند ترین خیالی قلعہ بنایا۔ مگر حقیقت کی دنیا میں وہ ملت کا کوئی قلعہ تعمیر کرنے سے عاجز رہے۔ الفاظ کی دنیا میں مسلمانوں کی لاٹھی سب سے زیادہ طاقت ورتھی، مگر واقعات کی دنیا میں دوسروں کی لاٹھی سب سے زیادہ طاقت ور۔ ۲۹ اپریل ۱۹۹۰ ۲۷ اپریل کو عید الفطر کا دن تھا۔ میں نے مسجد سرائے رتی دہلی، میں عید کی نماز پڑھی۔ یہاں میں مقبرہ کے گنبد کے نیچے تھا۔ اس گنبد کے تحت تقریباً سو آدمی موجود تھے۔ جس وقت لوگ نماز کے بعد خطبہ سننے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک منظر میرے سامنے آیا۔ ایک مسلمان بچہ وہاں قبر کے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک غبارہ تھا۔ اس غبارہ کو جوڑ کو بندر کی صورت میں بنایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ لنگور جیسی لمبی دم بھی موجود تھی۔ بچہ اس بندر نما غبارہ کو ادھر اُدھر پھینک رہا تھا۔ وہ ہوا میں اڑ کر لوگوں کے سروں پر گر رہا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس کی اس حرکت پر اس کے والد صاحب اس کو پیار کر رہے ہیں۔ اور دوسرے نمازی اس کو دیکھ کر مسکرارہے ہیں۔ اب فرض کیجیے کہ یہ بچہ ہندو ہوتا اور وہ بندر کی شکل کا غبارہ نمازیوں کے سروں پر اڑاتا تو کیا ہوتا۔ فوراً اس میں لوگوں کو ہند و سازش نظر آتی۔ نمازیوں کی نماز خراب ہوجاتی۔ مسجد کا تقدس مجروح ہو جاتا۔ اور پھر نماز کے فوراً بعد فرقہ وارانہ فساد رونما ہو جاتا۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں کہ میں نے کب سے باقاعدہ روزہ رکھنا شروع کیا۔ مگر یہ یقینی ہے کہ جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page