Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

سے روزہ رکھنا شروع کیا، اس کے بعد پھر کبھی نہیں چھوڑا۔ مجھے شرم آتی ہے کہ رزق کا مالک یہ کہے کہ تم میرا کھانا اور پانی چھوڑ دو، پھر بھی میں خدا کا دیا ہوا کھانا اور پانی استعمال کرتا رہوں۔ میں کم از کم پچاس سال سے اس طرح مسلسل روزہ رکھ رہا ہوں۔ مگر روزہ کی ایک لطیف حقیقت پہلی بار 50 سال بعد موجودہ رمضان (۱۴۱۰ھ) میں میری سمجھ میں آئی۔ ۲۵ رمضان کو شام کا وقت تھا۔ بھوک پیاس کی شدت سے جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ میں عصر کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اچانک یہ دعا زبان پر آگئی : خدایا، میں نے رمضان کے دن کا روزہ رکھا۔ مگر دوسرے بے شمار دنوں کے روزے میں نہ رکھ سکا۔ آپ اپنی رحمت سے میرے رمضان کے روزہ کا ثواب اتنا بڑھائیے کہ وہ میری تمام بے روزہ داریوں کو ڈھانپ لے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب دس گنا سے سات سوگنا تک ہے۔ اور روزہ کا ثواب بے حساب گنا تک۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے روزہ کا ثواب بڑھادے تو کیا عجب کہ وہ دوسری تمام بے روزہ داریوں کی تلافی کے لئے کافی ہو جائے۔ یکم مئی ۱۹۹۰ مشتاق احمد صاحب ایڈوکیٹ (پیدائش ۱۹۵۴، سپریم کورٹ دہلی میں پریکٹس کرتے ہیں، بھاگلپور کے فساد (فروری ۱۹۹۰) کا جائزہ لینے کے لئے وہ بھاگلپور گئے تھے۔ تین ہفتہ کے بعد واپس آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں فسادات کا رکنا بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ وہ براہِ راست مصیبت زدگان کے سوا ہر ایک کے لئے انٹرسٹ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ (۱) فساد جب ہوتا ہے تو غریب طبقہ کو لوٹنے کا موقع ملتا ہے (۲) گورنمنٹ کروڑوں روپیہ نقد اور سامان کی شکل میں ریلیف دیتی ہے۔ اس کا بیشتر حصہ انتظامی افسران کی جیب میں جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک بڑے فساد میں ایک ایک افسر دس لاکھ روپیہ تک کما لیتا ہے۔ (۳) لیڈروں کی لیسڑی چمکتی ہے وہ ریلیف فنڈ کھول کر دوسروں کے پیسہ پر مفت کا کریڈٹ وصول کرتے ہیں (۴) اخبارات کی اشاعت بڑھ جاتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ حتیٰ کہ اس انٹرسٹ میں خود مسلم لیڈروں کا بھی حصہ ہے جو فساد کے خلاف بیان دینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ملک میں فرقہ وارانہ فساد کس طرح ختم ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page