Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسروں میں صرف یہ فرق ہے کہ کسی کی اس نفسیات کا اظہار ایک دائرہ میں ہو رہا ہے اور کسی کا دوسرے دائرہ میں۔ قومی آواز (نئی دہلی) سرکاری نقطہ نظر کا ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۳۱ جنوری ۱۹۸۹) کے صفحہ اول پر یہ سرخی تھی: ہند بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کرے گا۔ اس سرخی کے تحت ہندوستانی وزیر دفاع مسٹر کے سی پنت کا یہ اعلان نقل کیا گیا تھا کہ ماضی میں ہندوستان چند پڑوسی ملکوں کو کچھ چھوٹے ہتھیار برآمد کرتا رہا ہے۔ اب ملک کی اسلحہ ساز فیکٹریاں اس صلاحیت کی حامل ہو چکی ہیں کہ وہ زیادہ بڑے پیمانے پر بڑے بڑے ہتھیار باہر کے ملکوں کے ہاتھ فروخت کر سکیں۔ اس مقصد کے لئے ہتھیار کی عالمی منڈیوں میں ہم زبردست کوشش کر رہے ہیں۔ ہتھیاروں کی اس تجارت کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ ہندوستان اس کے ذریعہ سے بڑی مقدار میں زر مبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس خبر کے صرف چند دن بعد قومی آواز (۴ فروری ۱۹۸۹) میں صفحہ اول پر یہ سرخی درج ہے: جنگوں اور ہتھیاروں سے پاک نئے عالمی نظام کا قیام۔ اس سرخی کے تحت بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور فرانس کے صدر مٹر تراں (Francois Mitterrand) نے ممبئی میں ۳ فروری کو ایک اجتماع میں مشترکہ طور پر اس بات کا عہد کیا کہ وہ ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے ایک ایسے نئے عالمی نظام کی کوشش کریں گے جو جنگوں اور ہتھیاروں سے پاک ہو اور جس میں انسانیت ایک خاندان کی طرح رہ سکے۔ دونوں باتوں میں واضح تضاد موجود ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام لیڈروں خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا سارا عمل مفاد کے تحت ہے نہ کہ اصول کے تحت۔ ایک جگہ اگر مفاد ہتھیار بیچنے میں ہے تو وہاں ہتھیار بیچ رہے ہیں۔ دوسری جگہ ہتھیاروں کے خلاف تقریر کرنا مفید ہے تو وہاں ہتھیاروں سے پاک نظام پر تقریر ہو کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یہی دو عملی مذہب ہی طبقہ میں بھی عام ہو گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page