Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے کہا کہ سلمان رشدی کے معاملہ میں تمام علماء اور دانشوروں نے اعلان کیا کہ وہ اہانت رسول کا مجرم ہے اس لئے وہ مستوجب قتل ہے۔ مگر ایک آپ تھے جس نے رشدی کو قابل قتل قرار نہیں دیا۔ میں نے نہ کہا کہ یوں نہ کہے۔ اس طرح کہئے کہ رشدی کے معاملہ میں تمام علماء، اور دانشوروں نے بے اصولی کا مظاہرہ کیا۔ صرف آپ تھے جس نے اس معاملہ میں اصول پسندی کا ثبوت دیا۔ سوال یہ ہے کہ رشدی جب واجب القتل ہے اور علماء اور دانشوروں کے نزدیک اس کا جرم ایسا ہے کہ کوئی بھی شخص جاکر اسے قتل کر دے تو ان تمام لوگوں نے رشدی کو قتل کیوں نہیں کیا۔ یا لندن پہنچ کر اس کو قتل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ نے رشدی سے زیادہ خود علماء اور دانشوروں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والے قول بلا فعل کی سطح پر ہیں۔ اور یہ بلاشبہ امت کے لئے بدترین علامت ہے۔ ۳ مئی ۱۹۹۰ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس صاحب (۱۸۸۵-۱۹۴۷) کے بارہ میں ایک پرانے تبلیغی نے بتایا کہ ہندوستان میں پہلی بار جب کچھ افراد جماعت بنا کر نکلے تو مولانا الیاس صاحب نے نے فرمایا : اللہ نے انگلینڈ کے سر پر ہتھوڑا مروا دیا۔ یہ واقعہ ۵۰ سال سے زیادہ کا ہے۔ مگر اب تک انگلینڈ کے سر پر ہتھوڑا نہ پڑ سکا ۔ اب تک تمام ہتھوڑے خود مسلمانوں کے سروں پر پڑرہے ہیں۔ خود تبلیغی جماعت کا سارا کام مسلمانوں کے درمیان چل رہا ہے۔ " انگلینڈ " بالفاظ دیگر، غیر مسلم قوموں کو ابھی تبلیغ نے چھوا بھی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم مصلحین نے مسلمانوں کو اپنے کام کا مرکز بنایا اور امید قائم کی کہ اس سے عمومی سطح پر اسلامی انقلاب آ جائے گا۔ یہ میرے نزدیک خوش فہمی ہے، اور موجودہ زمانہ کے تمام مسلم مصلحین اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ آج میں انشا اللہ جنیوا کے راستہ سے سینگال (افریقہ) کے لئے روانہ ہو رہا ہوں۔ وہاں ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے مجھے بلایا گیا ہے۔ الرسالہ نکلنے کے بعد مسلسل مجھے بیرونی اسفار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page