Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری طرف جارہا ہے۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہے: A wall comes tumbling down. یہ دیوار برلن (Berlin Wall) ہے۔ دوسری عالمی جنگ (۱۸-۱۹۱۴) کے بعد جرمنی کی تقسیم ہوئی۔ مشرقی برلن سوویت روس کے حصہ میں آیا۔ تاہم یہاں کے لوگوں میں روس کے خلاف ناراضگی تھی۔ ۱۷جون ۱۹۵۳ کو تقریباً ۵۰ ہزار درکاروں نے ایسٹ برلن میں بغاوت کر دی۔ اس وقت سوویت روس نے فوجی طاقت سے بغاوت کو کچل دیا۔ اس کے بعد ۱۹۵۲ میں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان خاردار تار کھینچ دیا گیا۔ تاہم یہ دیوار لوگوں کو روکے رکنے والی ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اگست ۱۹۶۱ میں دونوں کے درمیان سخت کنکریٹ کی دیوار بنائی گئی۔ یہ دیوار ۹ فٹ اونچی اور ۸۵۰ میل لمبی تھی۔ دیوار کے اوپر برقی تار (Electrified fence) مزید لگائے گئے اور جگہ جگہ نگراں چوکیاں قائم کی گئیں۔ مگر انسانی سیلاب کے مقابلہ میں یہ تمام تیاریاں ناکافی ثابت ہوئیں۔ حالات کے دباؤ سے مجبور ہو کر خود سوویت روس نے دسمبر ۱۹۸۹ میں اس دیوار کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ دیوار برلن کا ٹوٹنا گویا آخری نظام جبر کا ٹوٹنا ہے۔ اب تاریخ آخری طور پر آزادی کے مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ آزادی کا مل کا مرحلہ خدا کی طرف سے اس لئے لایا گیا ہے تاکہ اہل اسلام کے لئے دعوت و تبلیغ کے تمام مواقع کو آخری حد تک کھول دیا جائے ۔ مئی ۱۹۹۰ اقبال، سید قطب، ابو الاعلیٰ مودودی، ابو الحسن علی ندوی ان سب کے فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان خدائی فوجدار اور محتسب کائنات ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ ساری دنیا میں نظام غیر حق کو توڑ کر نظام حق قائم کریں۔ یہ نظریہ موجودہ زمانہ میں ایک داخلی تضاد سے دوچار ہے۔ آدمی اگر واقعۃً اس پر چلے تو وہ حکمراں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page