Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 293

By Maulana Wahiduddin Khan

کی طرف سے تغذیب کا شکار ہوگا۔ اور اگر وہ اس کو عملاً اختیار نہ کرے تو اپنے عقیدہ کی رو سے وہ منافق ٹھہرے گا۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اس نظریہ کو ماننے والے ۹۵ فیصد سے زیادہ منافققت کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ خلیجی ممالک یا مغربی ممالک میں عملاً پوری طرح مصالحانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ البتہ اپنے گھر کے اندر تفریحی طور پر سیاسی باتیں کر کے اپنے کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ وہ اپنے عقیدہ پر قائم ہیں۔ اس نظریہ کا یہ داخلی تضاد لازمی طور پر مستقبل میں اس کو موت سے دوچار کرے گا۔ اس کے مقابلہ میں الہٰ کا فکر اس قسم کے تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے۔ الہٰ کے فکر سے متاثر ہونے والے آدمی کو زندہ رہنے کے لئے منافق بننے کی ضرورت نہیں۔ الہٰ کے مشن کی یہی خصوصیت اس بات کی ضامن ہے کہ وہ مستقبل میں مذکورہ فکر کے اوپر غلبہ حاصل کرلے گا۔ ۸ مئی ۱۹۹۰ ریاض کے ہفت روزہ الدعوة (۳۱ مئی ۱۹۹۰) کے ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے ۱۹۸۸ میں ۳۵ مسلم ملکوں کے ۷۷۰٫۷ ملین، ۷۰٫۷ بلین، ریال مدد کے طور پر دیا۔ اگرچہ یہ امر مثبت ہے کہ ان ملکوں نے اس عظیم رقم کو واقعہ ترقی کے کاموں میں صرف کیا ہے۔ تاہم یہ بات بجائے خود اہم ہے کہ ایک مسلم ملک آج اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ایک سال میں ۷۷٫۷ بلین ریال مالی تعاون کے طور پر دوسروں کو دے سکے۔ ۹ مئی ۱۹۹۰ سوویت روس میں ایک سو مسجدیں مسلمانوں کو واپس کر دی گئی ہیں۔ حکومت روس نے سرکاری طور پر یہ اجازت دے دی ہے کہ سعودی عرب قرآن کی ایک ملین کاپیاں جدہ سے ماسکو پہنچائے۔ حال میں روس کے مسلمانوں نے ایک رسالہ نور الاسلام کے نام سے جاری کیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ (الدعوة ۱۵ شوال المکرم ۱۴۱۰ھ) سوویت روس کے بارہ میں اس طرح کے واقعات ابھی صرف چند سال پہلے تک ناقابل قیاس تھے۔ کیسی عجیب ہے یہ بات۔ مجھے یقین ہے کہ عالمی سیاست میں یہ تبدیلیاں براہ راست خدا کی طرف سے پیدا کی گئی ہیں تاکہ خدا کے دین کی اشاعت کسی روک اور مداخلت کے بغیر جاری رہ سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page