آغازِ کلام
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
قادیانی جماعت کا ایک اردو پرچہ قادیان سے نکلتا ہے۔ اس کا نام "بدر" ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰ مئی ۱۹۹۰ء کے صفحہ اول پر جو مضمون ہے، اس کی مفصل سرخی ان الفاظ میں قائم کی گئی ہے: "صد سالہ جشن تشکر اور مباہلہ کے سال میں ایک لاکھ اٹھہتر ہزار افراد کا قبول احمدیت۔ چوہدریہ مالی میں سابقہ چالیس ہزار کے علاوہ مزید گیارہ ہزار افراد بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔" جماعت احمدیہ (ریاست قادیانی جماعت) کو تمام علماء نے متفقہ طور پر کافر قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق وہ لوگ سراسر باطل پر ہیں۔ اس کے باوجود لاکھوں لوگ ان کے حلقہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ عجیب زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم اور کافر ہر ایک کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت نہ آئے تو یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ ۱۱ مئی ۱۹۹۰ء آج دکار (سنیگال) کی کانفرنس میں کچھ لوگوں نے کشمیر کے بارہ میں تجویز پیش کی۔ ڈاکٹر معین الاسلام (ڈھاکہ) پیش پیش تھے۔ اس پر بحث ہو رہی تھی کہ تجویز کو زیادہ سخت الفاظ میں منظور کیا جانا چاہئے۔ میں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اس طرح حل نہیں ہو سکتا کہ آپ یہاں مغربی افریقہ میں بیٹھ کر ایک تجویز پیش کریں۔ اور اس پر بحث کریں کہ اس میں یہ لفظ رکھا جائے کہ وہ لفظ رکھا جائے۔ کچھ الفاظ گھٹ کر یا کچھ الفاظ بڑھا کر شاعری کی جا سکتی ہے، اس طرح کبھی تاریخ نہیں بنتی۔ کشمیر کا مسئلہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ وہ لفظی تجویزوں کے ذریعہ حل ہو سکے۔ پھر میں نے کہا کہ مسلمان خود غلطی کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے اس کی قیمت ادا کریں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں نے شیخ عبد اللہ کو اپنا لیڈر بنایا۔ تمام کشمیری مسلمان شیخ عبد اللہ کے ساتھ ہو گئے۔ شیخ عبد اللہ نے کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دیا۔ اب اپنے لیڈر کی غلطی کی قیمت آپ کو خود ادا کرنی پڑے گی۔ یہ ناممکن ہے کہ نئی دہلی آپ کی طرف سے اس کی قیمت ادا کرے۔ مکہ سے ایک عربی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام "الرابطہ" ہے۔ اس کے شمارہ مئی ۱۹۹۰ء میں نیپال کے مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader